صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 384 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 384

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۸۴ ۹۳ - كتاب الأحكام حضور اکرم صلی کم سے بڑھ کر اس دنیا میں کسی شخصیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔دنیا میں آپ سے بڑھ کر کسی اور کے اختیارات کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آپ اللہ تعالی کی نمائندگی میں مبعوث ہوئے تھے اور آپ کی طرح کسی نے بھی اللہ تعالٰی کی اس رنگ میں نمائندگی کا دعویٰ نہیں کیا۔اس لئے اگر بعض افراد اسلامی نظام پر معترض ہوتے ہوئے اسے آمریت سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔کرہ ارض پر کوئی شخص دنیوی اصطلاح کی رو سے کوئی ایسی آمرانہ حیثیت یا آمریت کا دعویٰ نہیں کر سکتا جس قسم کا روحانی اقتدار اعلیٰ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے بعد من جانب اللہ عطا ہوا۔جہاں تک دنیوی آمریت کا تعلق ہے اس کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔اسلام کی رو سے کسی مقتدر ہستی کی جتنی زیادہ طاقت یا قوت بڑھتی جائے گی اتنازیادہ مقام خوف بڑھتا جائے گا کیونکہ بالآخر سب اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں۔نتیجہ طاقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خوف بہت بڑھ جاتا ہے۔چنانچہ حضور اکرم صلى الل لم نے اس طاقت کو نہایت عاجزانہ طور پر استعمال فرمایا اور اتنے خوبصورت اور عمدہ انداز سے کہ آپ کی تمام زندگی پر کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکتا کہ کسی بھی موقع پر آمریت کا کوئی شائبہ بھی پیدا ہوا ہو۔آپ نے نہایت دانشمندی اور حکمت سے حکومت کی، آپ نے محبت سے حکومت کی۔اور اگر یہ تین پہلو موجود ہوں تو پھر آمریت کا سر اُٹھانا نا ممکن ہے۔آمریت کا حکمت سے کوئی رشتہ نہیں، نہ ہی دانشمندی یا محبت سے۔آمریت کا ان سب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔تو یہ وہ انتظامی طریق ہے جو احمدیوں کو خواہ وہ کسی سطح پر خدمت کر رہے ہوں اپنانا چاہئے۔انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اس اعتماد کو جو ان پر کیا گیا ہے قائم رکھیں اور کسی بھی رنگ میں اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں۔اور اگر یہ دونوں پہلو اختیار کئے جائیں تو بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔“ ( خطبات طاہر ، خطبه جمعه فرموده ۸/ اکتوبر ۱۹۸۲ء، جلد اول صفحه ۱۹۳، ۱۹۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”اگر حاکم ظالم ہو تو اس کو بُرا نہ کہتے پھر و بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو۔خدا اُس کو