صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 383
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام لَا يَأْكُل إِلَّا طَيْبًا فَلْيَفْعَلْ وَمَن نصیحت کریں تو انہوں نے کہا: پہلی چیز جو انسان اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يُحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ کی سڑتی ہے وہ اس کا پیٹ ہے اس لئے جو یہ کر الْجَنَّةِ بِمِلْءٍ كَفَ مِنْ دَمِ هَرَاقَهُ سکے کہ سوائے پاکیزہ کے کچھ اور چیز نہ کھائے تو فَلْيَفْعَلْ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَنْ چاہیے کہ وہ نہ کھائے اور جس سے یہ ہو سکے کہ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله چلو بھر لہو کی وجہ سے کہ جس کو اس نے بہایا ہے اپنے آپ کو جنت میں داخل ہونے سے نہ روکے تو چاہیئے کہ وہ نہ روکے۔(فربری کہتے ہیں:) میں نے ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) سے پوچھا: یہ کس نے کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، کیا حضرت جندب نے ؟ انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جُنْدَبْ؟ قَالَ نَعَمْ جُنْدَبٌ۔طرفه : -7899: ہاں حضرت جندب نے۔تشریح : مَنْ شَاقٌ شَقَ اللهُ عَلَيْهِ : جو لوگوں کومشکلات میں ڈالے تو اللہ اس کومشکلات میں ڈالے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” میں کسی ایسے امیر کو جو لوگوں کا ہمدرد نہیں ہے مقرر کرنا بالکل پسند نہیں کرتا۔کیونکہ خلیفہ کا سب احمدیوں سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے اور انہیں اس لئے اس کی اطاعت کے لئے نہیں کہا جاتا کہ وہ اس سے کمتر ہیں۔بلکہ صرف نظم وضبط قائم رکھنے کے لئے اطاعت کے لیے کہا جاتا ہے۔نہ کہ کسی اور وجہ سے مگر نظم و ضبط کا مطلب سختی اور غیر ہمدردانہ رویہ نہیں ہے۔میں خود کو کسی ایسے امیر کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں سمجھتا جو احمد یوں سے اس قسم کا رویہ اختیار نہیں کرتا جو مجھے پسند ہے۔چنانچہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی مشنری انچارج، کوئی صدر اپنی طاقت کا غلط استعمال کرے۔کیونکہ اگر وہ ان احمدیوں کو جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ان کی اطاعت کرتے ہیں تکلیف دیں گے تو دراصل وہ مجھے تکلیف پہنچائیں گے اور وہ اللہ کے راستہ سے بھٹک جائیں گے۔یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔آپ کو اس اعتماد پر جو آپ پر کیا گیا ہے پورا اترنا چاہئے۔اور اس طرح سلوک کرنا چاہئے جیسا حضرت محمد صلی الیکم کا اپنے صحابہ سے تھا۔