صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 376 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 376

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام اور تنگی پیدا نہ کرو۔اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کو بد کا یا نہ کرو۔(صحیح البخاری كتاب العلم، باب ما كان النبى الله يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا) تو اصولی قواعد بھی اس لئے ہیں کہ صحیح سمت میں چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں پر چلتے ہوئے لوگوں کے لئے بہتری اور آسانی پیدا کی جائے۔تمہاری ضدیں، تمہاری قسمیں، تمہاری انائیں کبھی بھی کسی بات میں حائل نہ ہوں جس سے لوگ تنگ ہوں۔اگر کوئی قاعدہ بن بھی گیا ہے یا کوئی فیصلہ ہو بھی گیا ہے اگر اس سے لوگ تنگ ہو رہے ہیں تو بدلا جا سکتا ہے۔انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ لوگ ہمیشہ تمہارے پاس خوشی کی خبروں اور محبت اور پیار کے پیغاموں کے لئے اکٹھے ہوا کریں، نہ کہ تنگ ہونے کے لئے دور بھاگتے چلے جائیں۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۳۱ رد سمبر ۲۰۰۴، جلد دوم صفحه ۹۵۲٬۹۵۱) بَاب ٦ : مَنْ سَأَلَ الْإِمَارَةَ وَكِلَ إِلَيْهَا جس نے حکومت مانگی اس کو اس کے سپر د کر دیا جائے گا ٧١٤٧: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۷۱۴۷: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ نے ہمیں بتایا۔یونس نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ نے حسن بصری) سے، انہوں نے کہا حضرت بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ عبد الرحمن بن سمرۃ نے مجھے بتایا۔اُنہوں نے کہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ عبد الرحمن بن سمرہ حکومت نہ مانگو کیونکہ اگر فَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وَكِلْتَ مانگنے پر تمہیں وہ دی گئی تو تمہیں اس کے سپرد إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ کر دیا جائے گا اور اگر بغیر مانگنے کے تمہیں وہ دی أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ گئی تو اس کے نباہنے میں تمہاری مدد کی جائے گی فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي اور جب تم کوئی قسم کھا بیٹھو پھر تم اس کے سوا