صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 377 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 377

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۷۷ ۹۳ - كتاب الأحكام هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ۔ کسی اور بات کو اس سے بہتر سمجھو تو پھر تم وہی کرو أطرافه : ٦٦٢٢، ٦٧٢٢، ٧١٤٦- جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دو۔ تشريح : مَنْ سَأَلَ الْإِمَارَةَ وَكِ إِلَيْهَا : جس نے حکومت ہائی اس کو س کے سپرد کر دیاجائے گا۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عہدے مانگنے سے متعلق منع فرمایا کہ کسی عہدہ کی خواہش نہیں کرنی تو اس لئے کہ وہ قرض نہیں امانت ہے۔ جتنی ذمہ داریاں ہیں وہ ساری امانتیں ہیں۔ چنانچہ جب بعض لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خواہش کی کہ ہمیں فلاں جگہ کی ولایت دے دیں یا فلاں جگہ کی امارت دے دیں تو آپؐ نے فرمایا کہ بالکل نہیں، یہ وہ امانت ہے جو مانگی نہیں جائے گی۔ یہ میرا کام ہے اور میرے سپر دہے کہ میں جسے تم میں سے بہترین سمجھوں اس کے سپرد کروں۔ تمہارا یہ کام ہی نہیں کہ امانت مانگو۔ فرمایا کہ جو شخص امانت نہیں مانگتا بلکہ اس کے سپرد کی جاتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ اس کا مؤکل ہو جاتا ہے، اس کے لئے آسانی پیدا فرما دیتا ہے اور جو شخص خواہش کر کے لیتا ہے تو وہ امانت اس کے لئے بوجھ بنادی جاتی ہے ، وہ اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکتا۔ (الجامع الصحیح البخاری، کتاب الأيمان والنذر، باب قول الله لا يُؤَاخِذُ كُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ ) پس امانت اور قرض کے فرق کو ملحوظ رکھیں۔ امانت میں آپ کو کسی شخص نے از خود دیا ہے۔ دنیا کے لین دین میں جب ہم قرض سے فرق کرنے کے لئے امانت کی بات کرتے ہیں تو مطلب یہ بنے گا کہ آپ نے کوئی خواہش نہیں کی بلکہ ایک شخص کو ضرورت تھی۔ ایسی صورت میں آپ کا کچھ احسان اس پر ہو جاتا ہے کیونکہ آپ نے ذمہ داری قبول کر لی۔ اس کا ثواب اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے گا لیکن جب آپ قرض لیتے ہیں تو آپ امین بھی ہیں اور زیر احسان بھی آجاتے ہیں۔ پس قرض کو وقت پر وعدہ کے مطابق ادا کرنا یہ امانت سے بھی قسم کا زیادہ ضروری ہے کیونکہ اس میں انسان احسان کے نیچے آیا ہوا ہوتا ہے وہ دو مجرم بن جاتا ہے۔ احسان کش بھی محسن کش بھی اور خائن بھی بن جاتا ہے۔“ " (خطبات طاہر ، خطبه جمعه فرموده ۲ دسمبر ۱۹۸۳، جلد ۲ صفحه ۶۱۲،۶۱۱)