صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 353 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 353

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۳۵۳ ۹۲ - كتاب الفتن تشريح۔يَأْجُوجَ وَمَأْجُوج: ياجوج ماجوج۔دراصل دجال اور یاجوج وماجوج ایک ہی قوم کے دو نام ہیں مغربی عیسائی قوموں کے مذہبی راہنماؤں کو دجال کا نام دیا گیا ہے اور ان ہی کا سیاسی و قومی نام یا جوج و ماجوج ہے۔یا جوج و ماجوج کے الفاظ آج سے مشتق ہیں جس سے مراد آگ کے شعلے مارنے اور بھڑ کنے کے ہیں۔(لسان العرب زیر لفظ یا جوج) ان قوموں کے اس نام میں ایک اشارہ آگ کو مسخر کرنے اور بڑی مہارت سے آگ سے کام لینے کی طرف ہے اور دوسرا اشارہ ان قوموں کی ناری سرشت کی طرف ہے کہ یہ متکبر قو میں چالا کی اور ہوشیاری میں یکتا ہوں گی اور انہی اقوام کا سیاسی اور قومی نام یا جوج اور ماجوج ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ خیال کہ یا جوج ماجوج بنی آدم نہیں بلکہ اور قسم کی مخلوق ہے یہ صرف جہالت کا خیال ہے۔کیونکہ قرآن میں ذوالعقول حیوان جو عقل اور فہم سے کام لیتے ہیں اور مورد ثواب یا عذاب ہو سکتے ہیں وہ دو ہی قسم کے بیان فرمائے ہیں۔(۱) ایک نوع انسان جو حضرت آدم کی اولاد ہیں۔(۲) دوسرے وہ جو جنات ہیں۔انسانوں کے گروہ کا نام معشر الانس رکھا ہے اور جنات کے گروہ کا نام معشر الجن رکھا ہے۔پس اگر یا جوج ماجوج جن کے لئے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں عذاب کا وعدہ ہے معشر الانس میں داخل ہیں یعنی انسان ہیں تو خواہ مخواہ ایک عجیب پیدائش ان کی طرف منسوب کرنا کہ ان کے کان اس قدر لمبے ہوں گے اور ہاتھ اس قدر لمبے ہوں گے اور اس کثرت سے وہ بچے دیں گے ان لوگوں کا کام ہے جن کی عقل محض سطحی اور بچوں کی مانند ہے اگر اس بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت ہو تو وہ محض استعارہ کے رنگ میں ہو گی۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ کی قومیں ان معنوں میں ضرور لمبے کان رکھتی ہیں کہ بذریعہ تار کے دور دور کی خبریں ان کے کانوں تک پہنچ جاتی ہیں اور خدا نے بری اور بحری لڑائیوں میں ان کے ہاتھ بھی نبرد آزمائی کی وجہ سے اس قدر لمبے بنائے ہیں کہ کسی کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔پس جبکہ موجودہ واقعات نے دکھلا دیا ہے کہ ان احادیث کے یہ معنی ہیں اور عقل ان معنوں کو نہ صرف قبول کرتی بلکہ ان سے لذت اٹھاتی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے که خوامخواہ انسانی خلقت سے بڑھ کر ان میں وہ عجیب خلقت فرض کی جائے جو سراسر غیر معقول اور اس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو قدیم سے انسانوں