صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 352
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۳۵۲ ۹۲ - كتاب الفتن أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ زَيْنَبَ عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت زینب ابْنَةَ جَحْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ بنت ابی سلمہ نے اُن کو بتایا۔انہوں نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَرِعًا أم حبيبہ بنت ابی سفیان سے، انہوں نے حضرت يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ زينب بنت جحش سے روایت کی کہ ایک دن شَرٍ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس گھبرائے يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ - وَحَلَّقَ ہوئے آئے۔آپ فرما رہے تھے: اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔عربوں کی ہلاکت ہے اس شمر سے جو بالکل نزدیک آن پہنچا۔آج یا جوج ماجوج کی دیوار کو اس قدر کھولا گیا ہے اور آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے یعنی انگوٹھے اور اس سے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے حلقہ بنایا۔حضرت زینب بنت جحش کہتی تھیں، میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ ہمارے درمیان اچھے بِإِصْبَعَيْهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا۔قَالَتْ زَيْنَبُ ابْنَةَ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَفَتَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثرَ الْخُبْتُ۔لوگ ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں جب گند بہت ہو جائے گا۔أطرافه : ٣٣٤٦، ٣٥٩٨، ٧٠٥٩۔٧١٣٦: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :٧١٣٦ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسِ عَنْ وہیب نے ہمیں بتایا۔ابن طاؤس نے ہم سے بیان أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى کیا۔ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُفْتَحُ الرَّدْمُ - نے حضرت ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ رَدْمُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ - مِثْلُ هَذِهِ عليه وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: وہ دیوار اتنی کھولی جارہی ہے یعنی یا جوج ماجوج کی دیوار وَعَقَدَ وُهَيْبٌ تِسْعِينَ۔طرفه : ٣٣٤٧ اور وہیب نے انگلیوں پر نوے کا عد د شمار کیا۔