صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 351
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۵۱ ۹۲ - كتاب الفتن حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ يزيد بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہمیں خبر عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ دی۔ شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بن مالک سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مدینہ میں الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَقْرَبُهَا وجال آئے گا تو وہ فرشتوں کو پائے گا کہ اس کا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللهُ۔ پہرہ دے رہے ہیں تو انشاء اللہ نہ دجال اس کے أطرافه : ۱۸۸۱، ٧١٢٤، ٧٤٧٣۔ قریب پھٹکے گا اور نہ طاعون۔ تشريح : لا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ: دجال مدینہ میں نہیں داخل ہو گا۔ گا۔ عنوان باب اور زیر باب روایت میں یہ ذکر ہے کہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نہ مدینہ میں داخل ہو سکے گا اور نہ ہی مکہ میں۔ (صحیح مسلم ، كتاب الفتن، باب ذکر ابن صیاد جبکہ گذشتہ باب کی روایت ۱۲۸ے میں ذکر ہے کہ دجال خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔ ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ روایت ۱۲۸ے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا دیکھا کہ دجال خانہ کعبہ کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ رویا تعبیر طلب ہوتی ہے اس سے مراد ظاہری اور مادی صورت میں خانہ کعبہ کا طواف نہیں ہے۔ جبکہ ان روایات میں دجال کے ظاہری اور مادی طور پر داخل نہ ہونے کا ذکر ہے۔ دونوں باتیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے درست ہیں۔ بَاب ۲۸ : يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ یا جوج ماجوج ٧١٣٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۱۳۵: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ح۔ وَ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ نيز اسماعیل ( بن ابی اویس) نے بھی ہم سے بیان عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ ابْنِ کیا کہ میرے بھائی نے مجھے بتایا۔ اُن کے بھائی شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ نے سلیمان سے ، اُنہوں نے محمد بن ابی عقیق سے، زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ عَنْ ابن ابی عتیق نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے