صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 330
صحیح البخاری جلد ۱۶ اسراره ۹۲ - كتاب الفتن کے قریب وہاں بھی شرک ہونے لگے گا۔ دوسری روایت میں یوں ہے کہ قیامت قائم نہ ہو گی۔ جب تک لات اور عربی کی پھر سے پرستش نہ شروع ہو گی۔ (صحیح مسلم ، کتاب الفتن، باب لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الخلصة) حاکم کی روایت میں یوں ہے یہاں تک کہ بنو عامر کی عورتوں کے کندھے ذی الخلصہ کے پاس نہ ٹکرانے لگیں۔ (المستدرك على الصحيحين للحاكم ، كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِيمِ ، أَمَّا حَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ، جلد ۴، صفحہ ۵۲۲) ایک روایت میں یوں ہے یہاں تک کہ میری امت کے کئی قبیلے مشرکوں سے نہ مل جائیں اور بت پرستی نہ شروع کر دیں۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الفتن و الملاحم، باب ذكر الفتن و دلائلها، روایت نمبر ۴۲۵۲) بَاب ٢٤ : خُرُوجُ النَّارِ آگ کا نکلنا وَقَالَ أَنَسٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت انس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ نَارٌ فرمایا: اس گھڑی کی علامتوں میں سے پہلی علامت تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَی ایک آگ ہو گی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی الْمَغْرِبِ۔ طرف اکٹھا کر کے لے جائے گی ۷۱۱۸: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۱۱۸: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ سعید بن مسیب نے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کہا۔ حضرت ابوہریرہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِّنْ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ قائم نہیں ہو گی جب تک کہ حجاز کی زمین سے ایک آگ نہ نکلے جو بصری میں اونٹوں کی گردنوں کو بِبُصْرَى۔ روشن کر دے گی۔ ۷۱۱۹: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ۷۱۱۹: عبد اللہ بن سعید کندی نے ہم سے بیان کیا الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا کہ عقبہ بن خالد نے ہمیں بتایا۔ عبید اللہ بن عمر ) ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ” قال “ ہے۔ (فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۹۸) ترجمہ اس اس کے مطابق ہے۔