صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 329 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 329

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۲۹ ۹۲ - كتاب الفتن طَاغِيَةُ دَوْسِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي روس کا وہ بہت تھا جس کو وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا الْجَاهِلِيَّة۔کرتے تھے۔۷۱۱۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۷۱۱۷: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ ثَوْرٍ که سلیمان (بن بلال) نے مجھے بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثور بن زید دیلی) سے، ٹور نے ابوالغیث سے، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابو الغیث نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی اس مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ۔وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ قحطان کا ایک شخص ظاہر نہ ہو جائے جو لوگوں کو اپنے ڈنڈے طرفه : ٣٥١٧۔سے ہانکے گا۔تشریح : تَغَيرُ الزَّمَانِ حَتَّى تُعْبَدَ الْأَوْقَانُ : زمانے کا یہاں تک رنگ بدلنا کہ لوگ بتوں کی پوجا کریں گے۔زیر باب حديث لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ اس وقت تک کہ دوس کی عورتوں کے کولہے ذوالخلصہ میں نہ مٹکتے پھریں وہ گھڑی بر پا نہیں ہو گی۔ذوالخلصہ : وہ مکان تھا جسے کعبہ کیمانیہ کہا جاتا تھا۔قبیلہ دوس کا وہ بہت بڑا بت کدہ تھا یہ معبد ابرہہ الاشرط نے یمن میں تیار کیا۔ابرہہ خانہ کعبہ سے سخت دشمنی رکھتا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح عرب کے لوگوں کو کعبہ سے پھیر دے چنانچہ اس نے کعبہ کے مقابل پریمن میں ایک معبد تیار کیا اور لوگوں میں یہ تحریک کی کہ وہ ہجائے کعبہ کے اس عبادت گاہ کے حج کے لیے آیا کریں۔(سیرت خاتم النبیین صفحہ (۱۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب عرب میں ہر طرف اسلام کا بول بالا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کو پچاس گھڑ سواروں کے ساتھ بھیجا انہوں نے اس معبد کو نیست و نابود کر دیا۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غَزْوَةِ ذِى الخلصة، روایت نمبر ۴۳۵۶) دوس قبیلے کی عورتوں کے کو لہے مٹکانے سے مراد یہ ہے کہ اس بت خانے کے گرد طواف کریں گی۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شرک اور بت پرستی کی ابتدا عورتوں سے ہو گی کیونکہ عورتیں ضعیف الاعتقاد ہوتی ہیں، جلدی کفر کی باتیں اختیار کر لیتی ہیں، نیز یہ بھی کہ قیامت تک کچھ نہ کچھ اسلام باقی رہے گا مگر ضعیف ہو جائے گا۔جیسے دوسری حدیث میں ہے۔بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بَيَانِ أَنَّ الْإِسْلَام بَدَأَ غَرِيبًا) عرب ہی کے ملک سے سارے جہاں میں توحید پھیلی۔قیامت