صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 328
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۲۸ ۹۲ - كتاب الفتن يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ۔ تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ ایک آدمی دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ نہ کہے۔ اے کاش میں اس کی جگہ ہوتا۔ أطرافه : ۸۵ ، ۱۰۳٦، ۱۴۱۲، ۳۶۰۸ ، ۳۹۰۹ ، ٤٦٣٥، ٤٦٣٦، ٦٠٣٧، ٦٥٠٦، 1935، ٧٠٦١، ٧١٢١۔ تشريح : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُغْبَطَ أَهْلُ الْقُبُورِ : وہ گھڑی اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کھائیں۔ زمانہ کے حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ لوگ زندگی سے تنگ آکر موت کی آرزو کریں گے ۔ آرزو کریں گے کاش ہم بھی مرکز قبر میں ہوتے کہ یہ آفتیں اور بلائیں نہ دیکھتے۔ بعض نے کہا یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے قریب فتنوں کی کثرت ہو گی، ایمان جاتے رہنے کا ڈر ہو گا کیونکہ گمراہ کرنے والوں کا ہر طرف زور ہو گا۔ ایماندار مغلوب ہوں گے وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ اس سے قبل مر چکے ہوتے مسلم کی ایک روایت ہے دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ ایک شخص قبر کے پاس سے گزرے گا کہے گا کاش میں اس قبر والے کی جگہ پر ہوتا اور یہ کہنا اس کا کچھ دینداری کی وجہ سے نہ ہو گا بلکہ بلاؤں اور آفتوں کی وجہ سے ہو گا۔ (صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ” ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اگر موت بکتی ہوتی تو لوگ اس کو مول لینے پر مستعد ہو جاتے۔“ (سنن الواردة في الفتن للداني، باب تغبيط اهل القبور و تمنى الموت عند ظهور الفتن، روایت نمبر ۱۸۱) باب ۲۳ : تَغَيُّرُ الزَّمَانِ حَتَّى تُعْبَدَ الْأَوْثَانُ زمانے کا یہاں تک رنگ بدلنا کہ لوگ بتوں کی پوجا کریں گے ٧١١٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۱۱٦: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ سَعِيدُ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت بْنُ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ کی۔ اُنہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے کہا: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ تک کہ دوس کی عورتوں کے کولہے ذوالخلصہ میں عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ۔ وَذُو الْخَلَصَةِ نہ مٹکتے پھریں وہ گھڑی بر پا نہیں ہو گی اور ذوالخلصہ