صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 306
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲ - كتاب الفتن ۷۰۹۷: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۷۰۹۷: سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيكِ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شریک بن عبد اللہ سے ، شریک نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ خَرَجَ کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ضرورت کے لئے مدینہ کے باغوں میں سے ایک حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ باغ کی طرف نکلے میں بھی آپ کے پیچھے نکلا۔وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ فَلَمَّا دَخَلَ الْحَائِطَ جب آپ باغ میں داخل ہوئے تو میں اس کے جَلَسْتُ عَلَى بَابِهِ وَقُلْتُ لَأَكُونَنَّ دروازے پر بیٹھ رہا اور میں نے کہا: آج تو میں نبی الْيَوْمَ بَوَّابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کا دربان رہوں گا اور آپ نے مجھے حکم نہیں دیا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم گئے اور وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْمُرْنِي، فَذَهَبَ النَّبِيُّ اپنی ضرورت کو پورا کیا اور کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَى حَاجَتَهُ گئے۔آپ نے اپنی پنڈلیاں کھولیں اور انہیں وَجَلَسَ عَلَى قُفِّ الْمِثْرِ فَكَشَفَ عَنْ کنوئیں میں لٹکا دیا۔اتنے میں حضرت ابو بکر آئے سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ فَجَاءَ آپ کے پاس اندر جانے کی اجازت مانگنے لگے۔أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ لِيَدْخُلَ میں نے کہا: آپ یہیں ٹھہریئے تاکہ میں آپ فَقُلْتُ كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ کے لئے اجازت لے لوں۔چنانچہ وہ ٹھہر گئے اور فَوَقَفَ فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔میں نے کہا: یا نبی اللہ ! حضرت ابوبکر آپ کے پاس آنے کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَبُو اجازت چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: انہیں اجازت بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ قَالَ الْذَنْ لَهُ دو اور جنت کی بشارت دو۔حضرت ابوبکر داخل وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ فَجَاءَ عَنْ ہوئے اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طرف بیٹھ گئے اور اپنی پنڈلیاں کھولیں اور انہیں