صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 294 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 294

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۴ ۹۲ - كتاب الفتن عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا ہے اور اس کا نشان اس میں آبلہ کے نشان کی وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ وَيُصْبِحُ النَّاسُ طرح رہ جاتا ہے، ایسا جیسے ایک انگارہ تم اپنے يَتَبَايَعُونَ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي پاؤں پر لڑھکا دو اور اس میں آبلہ پھول آئے اور الْأَمَانَةَ فَيُقَالُ إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ تم اس کو ابھرا کو ابھرا ہوا دیکھتے ؟ ہو اور اس کے اندر کچھ رَجُلًا أَمِينًا وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ نہیں ہوتا اور لوگ صبح کو آپس میں خرید و فروخت وَمَا أَطْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ کریں گے تو کوئی بھی امانت ادا کرنے کے قریب نہیں ہو گا اور یہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلہ میں مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَلَا أُبَالِي أَيُّكُمْ ایک امین شخص ہے اور کسی آدمی کے متعلق کہا بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا رَدَّهُ عَلَيَّ جائے گا کیا ہی وہ عقلمند ہے، کیا ہی خوش مزاج آدمی ہے، کیا ہی وہ بہادر ہے حالانکہ اس کے دل الْإِسْلَامُ وَإِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا رَدَّهُ عَلَيَّ میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ سَاعِيهِ وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا۔ أطرافه : ٦٤٩٧، ٧٢٧٦- ہو گا۔ (حضرت حذیفہ کہتے تھے) مجھ پر ایک ایسا زمانہ گزر چکا ہے کہ میں پرواہ نہیں کرتا تھا کہ تم میں سے کس سے خرید و فروخت کی اگر وہ مسلمان ہوتا تو اسلام اس کو میرے پاس واپس لوٹا دیتا اور اگر وہ عیسائی ہوتا تو اس کا حاکم اس کو میرے پاس واپس لوٹا دیتا۔ آج تو میں سوا فلاں اور فلاں کے کسی سے خرید و فروخت نہیں کرتا۔ تشريح : إِذَا بَقِيَ فِي حُقَالَةٍ مِنَ النَّاسِ: اگر کوئی روی لوگ ناردی لوگوں میں باقی رہ جائے (تو کیا کرے؟) یہ بطور تمثیل فرمایا ہے کہ جس طرح کھجوروں میں سے مالک اچھی اچھی کھجوروں کو چن لیتا اور رڈی کو پھینک دیتا ہے، اسی طرح نیکوں کو اللہ تعالیٰ چن لے گا اور اپنے یہاں بلالے گا اور برے لوگوں کو چھوڑ دے گا کہ دنیا کی خباشتوں میں پڑے رہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے وہ لوگ جو اخلاقی اور روحانی لحاظ سے قعر مذلت میں تھے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انہیں اوج ثریا پر پہنچا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے