صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 290 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 290

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۰ ۹۲ - کتاب الفتن وَتُنْكِرُ۔قُلْتُ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ کسی اور راستے کی طرف رہنمائی کریں گے۔ان مِنْ شَرِ؟ قَالَ نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ میں کچھ اچھی باتیں بھی تم دیکھو گے اور بری جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَدَفُوهُ فِيهَا باتیں بھی پاؤ گے۔میں نے کہا: کیا اس بھلائی کے قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا ؟ قَالَ بعد بھی کوئی شر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔جہنم هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو اُن کی قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ مان کر ان دروازوں کی طرف گیا تو وہ اس کو اُن قَالَ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ میں پھینک دیں گے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اُن لوگوں کا حال ہمارے لئے بیان فرمائیں۔آپ نے فرمایا: وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان میں باتیں کریں گے۔میں نے کہا تو پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر اس زمانے نے مجھے پالیا؟ آپ نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور اُن کے امام کے ساتھ رہنا۔میں نے کہا: اگر ان کی جماعت نہ ہو اور نہ کوئی امام ؟ آپ نے فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں سے الگ رہنا گو تم درخت کی جڑ ہی کو چباؤ اور ایسی حالت میں تمہیں وَإِمَامَهُمْ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضُّ بِأَصْل شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ۔أطرافه : ٣٦٠٦ ، ٣٦٠٧ - شریح موت بھی آجائے۔۔كَيْفَ الْأَمْرُ إِذَا لَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ : جب جماعت نہ ہو تو پھر کیا رویہ ہو۔فرمایا: فاعتزل تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّها تمام فرقوں سے الگ رہنا کسی فرقے میں شامل نہ ہونا۔افتراق امت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نصیحت کتنی بڑی ہدایت اور مینارہ نور ہے کہ کسی فرقہ کا حصہ نہ بنا جب تک کوئی امام اور اس کی قائم کر وہ جماعت معرض وجود میں نہ آجائے۔جب اس امام کا ظہور ہو جائے اور وہ ایک جماعت کا قیام کریں تو جماعت المسلمین اور ان کے امام کے ساتھ چھٹ جانا۔یہ کون سی جماعت اور کون سا امام ہے ؟ ہر فرقہ اور ہر جماعت اپنا امام و پیشوا بنا کر اس کی مطیع بنی ہوتی ہے اور ہر ایک یہ دعویٰ کرتا ہے اور اس