صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 285
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸۵ ۹۲ - كتاب الفتن ۷۰۸۲ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۰۸۲ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے مجھے خبر دی کہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ سَتَكُونُ فِتَنَّ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے فتنے ہوں گے الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي جن میں بیٹھ رہنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ ہو گا اور اُن میں کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ فَمَنْ وَجَدَ ہو گا اور اُن میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر مَلْجَأَ أَوْ مَعَاذَا فَلْيَعُذْ بِهِ۔ ہوگا۔ جو اس کو جھانک کر دیکھے گا وہ فتنہ اس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس لئے جو شخص کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام پائے تو وہ وہاں پناہ لے۔ أطرافه : ٣٦٠١، ٧٠٨١- تشريح : تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ : ایک ایسا فتنہ ہو گا کہ جس میں بیٹھا ہوا ، کھڑے شخص سے بہتر ہو گا۔ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں جن فتنوں سے دور رہنے اور ان کا حصہ نہ بننے کی تاکید کی گئی ہے یہ آخری زمانہ کے فتنے ہیں جبکہ لوگ محض حکومت کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے لڑیں گے فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۴۰) آج کے زمانہ کی دہشت گردی، احتجاجی تحریکیں اور ان خیالات اور نظریات کی حامی جماعتوں اور گروہوں کے پیدا کر دہ تمام فتنے اس سے مراد ہیں۔ یہ نام نہاد علماء اور مذہبی گروہ جہاد کے نام پر فساد کے علم بردار نقض امن کا باعث بنتے اور معصوم شہریوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے پیدا کردہ فتنوں سے؟ جس قدر دور رہا جائے اسی قدر عافیت ہے ان فتنوں میں بیٹھنے ، کھڑے ہونے اور چلنے والے کے الفاظ سے ان فتنوں کا حصہ بننے کی مختلف حالتوں کو بیان کیا گیا ہے جیسا کہ آج کے زمانہ میں بعض شر پسند عناصر کو سلیپنگ سیل Sleeping Cell کہا جاتا ہے بعض کو سہولت کار اور بعض کو ان متشددانہ کارروائیوں میں فعال اور متحرک ہونے کی وجہ سے خودکش اور بعض کو ماسٹر مائنڈ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آج سے ۱۴ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر صاف، سادہ عام فہم اور انتہائی جامع الفاظ میں ان شر پسندوں کی سرگرمیوں کو بیان فرمادیا تھا۔ اللهم صل علی محمد و علی آل محمد۔