صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 278 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 278

صحيح البخاری جلد ۱۶ r2^ ۹۲ - كتاب الفتن بِأَسْهُم قَدْ بَدَا نُصُولَهَا فَأُمِرَ أَنْ کچھ تیر لئے ہوئے مسجد میں سے گزرا۔اس نے يَأْخُذَ بِنُصُولِهَا لَا يَخْدِشُ مُسْلِمًا۔ان کی نوکوں کو سامنے کھلا رکھا ہوا تھا تو اس سے فرمایا کہ وہ ان کو نوکوں سے پکڑے کہ کسی أطرافه : ٤٥١ ، ٧٠٧٣- مسلمان کو نہ چبھ جائے۔٧٠٧٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۷۰۷۵: محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے برید سے ، برید أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابو موسیٰ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَّ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِى سُوقِنَا کی۔آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جو ہماری مسجد وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَوْ یا ہمارے بازار میں سے گزرے اور اس کے پاس قَالَ فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا تیر ہوں تو چاہیے کہ وہ ان کو پریکانوں سے پکڑے رکھے یا فرمایا: اس کو اپنی ہتھیلی میں پکڑے رکھے مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَيْءٌ۔طرقه : ٤٥٢۔ایسا نہ ہو کہ کہیں ان میں سے کوئی تیر مسلمانوں میں سے کسی کو زخمی نہ کر دے۔تشريح۔مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السّلاحَ فَلَيْسَ مِنَّا نبی صلی اللہ علیہ سلم کا فرمان جس نے ہمارے برخلاف ہتھیار اُٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔فتنوں کے دور میں اسلحے کے کسی بھی طرح کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیئے۔ترقی کے اس زمانہ میں دنیا کے باشعور لوگ اپنے تجربے اور علم کی بنا پر اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ امن کے لیے اسلحے سے پاک ہوناضروری ہے مگر بانی اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۴۰۰ سال قبل بتا دیا تھا اور اس خطرے سے متنبہ کر دیا تھا کہ اسلحہ کے استعمال بلکہ نقل و حرکت میں بھی احتیاط کرنی چاہیئے ورنہ خطرناک نتائج نکلیں گے۔اور یہ اس دور کی بات ہے جب اسلحہ کی نئی نئی شکلیں ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔اس وقت اسلحہ اٹھانا اور اس سے کسی کی طرف اشارہ کرنا اتنابڑا جرم قرار دیا گیا کہ اس کے متعلق اخراج از امت کی سزا کا اعلان کر دیا گیا۔ان انمول نصائح کو نظر انداز کرنے سے آج کا معاشرہ بہت بڑا نقصان اٹھا چکا ہے مگر ابھی تک اس نکتہ کو نہیں سمجھا۔کاش ان قیمتی نصائح کو مسلمان حرز جان بناتے تو آج باہم گشت و خون نہ ہو رہا ہوتا بلکہ اسلامی دنیا امن کا گہوارہ بن