صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 279 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 279

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۷۹ ۹۲ - كتاب الفتن جاتی جو دیگر قوموں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوتی۔ فتنوں کے اس زمانہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تفصیل سے ہدایات دیں اور کامل راہنمائی فرمائی مثلاً : ا۔ پہلے سے اسلحہ موجود ہو تو اسے ضائع اور بے کار کر دے۔ فرمایا: فَلْيَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِهِ عَلَى حَرَّةٍ ثُمَّ لِيَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ التجاء کے وہ اپنی تلوار کو لے کر اس کی دھار پتھر پر مار دے، پھر جس قدر (فتنے سے) نجات مل سکتی ہو اسے حاصل کرے۔ ۲۔ فتنوں کے دور میں اسلحہ کی خرید و فروخت پر پابندی ہونی چاہئیے ۔ امام بخاری نے کتاب البیوع میں ایک میں ایک باب قائم کیا ہے : بَابُ بَيع السلاح في الفِتْنَةِ وَغَيْرِهَا فتنوں کے دور میں اسلحہ خریدنا۔ اور اس ضمن میں حضرت عمران بن حصین کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ فتنوں کے دور میں اسلحے کی خرید و فروخت کو ناپسند سمجھتے تھے۔ اس باب کی وضاحت حافظ ابن حجر نے ان الفاظ میں کی ہے : اس جگہ فتنے سے مراد وہ جنگیں ہیں جو مسلمانوں کے درمیان ہی بھڑک اٹھتی تھیں۔ (فتح الباری، جزء ۴، صفحہ ۴۰۸) اقوام عالم میں جنگوں کے چھڑنے کا بڑا سبب وہ اسلحہ ہے جو قو میں اپنے پاس رکھتی ہیں اور اسلحہ کے خریدار ان جنگوں کے لیے ایندھن اکٹھا کرنے والے ؟ ہیں۔ سورۃ اللہب میں ان قوموں کو سخت انذار کیا گیا ہے۔ اس باب کے تحت امام بخاری جو حدیث لائے ہیں، وہ بھی امام بخاری کی اعلیٰ فقہی بصیرت کی روشن دلیل ہے۔ جب حضرت علی بصرہ میں حضرت اہبان کے پاس آئے تو انہوں نے حضرت علی سے بیان کیا کہ إِنَّ خَلِيلِی وَابْنَ عَمِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَهِدَ إِلَى إِذَا كَانَتِ الْفِتْنَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَتَّخِذُ سَيْفًا مِنَ خَشَبِ یعنی میرے جانی دوست اور آپ کے چچا کے بیٹے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں کے مابین فتنہ ہو تو میں لکڑی کی تلوار بنالوں۔ بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرے بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اُڑاتے رہو ٧٠٧٦ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۷۰۷۶ : عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا باپ نے مجھے بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ شَقِيقٌ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ قَالَ النَّبِيُّ شقیق نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا۔ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ عبد اللہ (بن مسعود) نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ا (سنن ابی داؤد، كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِ ، بَاب فِي النهي عن السعي في الفتنة، روایت نمبر ۴۲۵۶)