صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 272
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۲۷۲ ۹۲ - كتاب الفتن الْقَتْلُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ۔أطرافه: ٧٠٦٢، ٧٠٦٧- عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَحْسِبُهُ نے واصل (بن حیان) سے ، واصل نے ابووائل رَفَعَهُ قَالَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامُ سے ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) سے الْهَرْجِ يَزُولُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ فِيهَا روایت کی۔اور (ابو وائل نے کہا:) میں سمجھتا ہوں الْجَهْلُ۔قَالَ أَبُو مُوسَى وَالْهَرْجُ که حضرت عبد اللہ نے اس حدیث کو مرفوعاً بیان کیا۔آپ نے فرمایا: اُس گھڑی سے پہلے خونریزی کے دن ہوں گے جن میں علم مٹ جائے گا اور اُن میں جہالت جابجا ہو گی۔حضرت ابو موسیٰ نے کہا: ہرج حبشی زبان میں خونریزی کو کہتے ہیں۔٧٠٦٧: وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ ۷۰۶۷: اور ابو عوانہ نے عاصم سے نقل کیا۔عاصم عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ نے ابووائل سے ، ابو وائل نے (حضرت ابو موسیٰ) أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ تَعْلَمُ الْأَيَّامَ الَّتِي اشعری سے کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مسعود سے کہا: کیا تم ان دنوں کے بارے میں أَيَّامَ الْهَرْجُ نَحْوَهُ وَقَالَ ابْنُ جانتے ہو جن کا نبی ملا لی ہم نے ذکر فرمایا یعنی خونریزی مَسْعُودٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله کے دن۔(حضرت ابو موسیٰ اشعری نے یہ کہہ کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ اسی طرح روایت بیان کی۔اور حضرت ابن مسعودؓ نے مَنْ تُدْرِكْهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاء۔کہا: میں نے نبی صلی ا ولم سے سنا آپ فرماتے تھے: میں نے علیکم۔بد ترین لوگ وہ ہوں گے جن کو وہ گھڑی ایسے وقت أطرافه: ٠٧٠٦٢ ٠٧٠٦٣ ٠٧٠٦٤ ٧٠٦٥، ٧٠٦٦- میں پالے گی جبکہ وہ زندہ ہوں گے۔ریح : ظُهُورُ الْفِتَنِ: فتنوں کا ظہور ہونا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں : اب دیکھ لو کہ وہ زمانہ آگیا ہے یا نہیں؟ کیا واقعی مسلمانوں کی مذہبی حالت اوپر کے نقشہ کے مطابق نہیں؟ کتنے ہیں جو سچے دل سے خدا پر ایمان رکھتے ہیں؟۔۔۔کتنے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر دل سے یقین رکھتے ہیں؟ کتنے