صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 273 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 273

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۷۳ ۹۲ - كتاب الفتن ہیں جو نزول وحی ، ملائکہ ، بعث بعد الموت ، تقدیر خیر وشیر ، جزا سز ا و غیره پر دل سے ایمان لاتے ہیں؟ کتنے ہیں جو اسلامی تعلیم سے واقف ہیں؟ کتنے ہیں جو اسلام کی حقیقت کو سمجھتے ہیں؟ کتنے ہیں جو نماز، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ پر کار بند ہیں؟ کتنے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں؟ کیا اسلامی دنیا کے اندر شراب خوری، زنا، قمار بازی، سود ، ڈاکہ قتل، دھوکا، فریب، جھوٹ اکل بالباطل وغیرہ وغیرہ کا میدان گرم نہیں ؟ پھر کیا مولویوں کی زندگی اسلامی زندگی کا سا نمونہ ہے ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اکثر مولوی پرلے درجہ کے بے دین، بد اخلاق اور بد اعمال ہیں ؟ اور کیا واقعی انہوں نے دین کی صورت بگاڑ نہیں دی ؟ کیا اندرونی اختلافات کی کوئی حد رہی ہے؟ پھر کیا اسلام کی ظاہری شان و شوکت کا جنازہ نہیں اُٹھ رہا؟ یہ اسلام کے اندرونہ کا حال ہے۔دوسری طرف اسلام کا وجود بیرونی حملوں کا اس قدر شکار ہو رہا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ بس یہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں ہر قوم اسلام کے خلاف میدان میں اتر آئی ہے اور چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔نبیوں کے سردار محمد مصطفیٰ پر گندے سے گندے اعتراض کیے جاتے ہیں اور آپ کا وجود باجود ذلیل ترین الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اسلامی تعلیم نہایت ہی بد نما شکل میں پیش کی جاتی ہے اور اس پر مذاق اُڑایا جاتا ہے۔عیسائی مذہب اپنے پورے زور پر ہے اور سلطنت کی آغوش میں دوسرے مذاہب کے خون پر پرورش پاتا اور ترقی کر رہا ہے ہندو مذہب نے بھی آریہ قوم کے جھنڈے کے نیچے ہو کر سر اٹھایا ہے اور اسلام کے خلاف حملہ آور ہے دہریت اپنے آپ کو ایک خوبصورت شکل میں پیش کر رہی ہے اور اپنا جال دنیا کے چاروں طرف پھیلا رہی ہے۔۔۔غرض یہ ایک عام فتنہ کا زمانہ ہے جس کے متعلق سب نبیوں نے پیشگوئی کی ہے اور اپنی اپنی امت کو ڈرایا اور ہوشیار کیا ہے۔“ ( تبلیغ ہدایت صفحہ ۱۱،۱۰)