صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 268
صحيح البخاری جلد ۱۶ رَضِيَ ۲۶۸ ۹۲ - كتاب الفتن عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمّ سَلَمَةَ سنا۔زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت زینب عَنْ أُمَ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ بنت ام سلمہ سے، انہوں نے حضرت ام حبیبہ سے، اللهُ عَنْهُنَّ أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَيْقَظَ اُنہوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّوْمِ مُحْمَرًا وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ لَا نیند سے جاگے۔آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ یہ إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِّ قَدِ فرمارہے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔عرب اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ کی بربادی ہے ایک شہر سے جو بالکل قریب آن وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ - وَعَقَدَ سُفْيَانُ پہنچا ہے۔یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں آج اتنا تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً - قِيلَ أَنَهْلِكُ وَفِينَا روزن ہو گیا ہے اور سفیان نے انگلیوں سے نوے الصَّالِحُونَ؟ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثرَ یا سو کا عدد بنایا۔آپ سے پوچھا گیا کیا ہم ہلاک ہو الْخَبَتُ۔أطرافه : ٣٣٤٦، ٣٥٩٨، ٧١٣٥- جائیں گے جب کہ ہم میں اچھے لوگ ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔جب گندگی بڑھ جائے گی۔٧٠٦٠: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۰۶۰: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا کرتے ہوئے ہمیں بتایا اور محمود نے مجھ سے بیان مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ کیا کہ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ دی۔اُنہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عروہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے عَلَى أُطْمِ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ روایت کی۔اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ قَالُوا لَا قَالَ مدینہ کے قلعوں میں سے ایک قلعہ پر چڑھے آپ فَإِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ نے فرمایا: کیا تم بھی دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں؟