صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 269
صحيح البخاری جلد ۱۶ كَوَقْعِ الْقَطْرِ۔۲۶۹ ۹۲ - كتاب الفتن صحابہ نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں میں اس طرح پڑ رہے ہیں جیسے کہ بارش کے قطرے پڑتے ہیں۔أطرافه : ١٨۷۸، ٢٤٦٧، ٣٥٩٧۔تشريح۔وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِ قَدِ اقْتَرَبَ: نبیصلی اللہ علیہ سلم کا فرمانان عربوں کی اس شر سے ہلاکت ہو گی جو بالکل نزدیک آپہنچا ہے۔علامہ عینی لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ اسلام کا آغاز عرب سے ہوا تھا۔(عمدۃ القاری، جزو ۲۴ صفحہ ۱۸۱) اور جب فتنوں کا آغاز ہو گا تو سب سے پہلے یہی لوگ ان کا شکار ہوں گے۔جہاں جتنا بڑا انعام ہو شیطان کا حملہ بھی سب سے زیادہ اسی جگہ ہوتا ہے اسی لیے سورۃ فاتحہ میں اس انعام یافتہ گروہ میں شامل ہونے کی دعا سکھائی گئی ہے جو انعام کے بعد مغضوب اور ضال نہ بنیں اس لیے انعام الہی کی قدر کرنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا منعم علیہ گروہ کا سب سے بڑا فرض ہوتا ہے۔یا جوج ماجوج جو کہ دجال کی ہی ایک علامت ہے ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے آگے جو دیوار تھی اس میں سوراخ ہو گیا ہے۔آپ نے انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر ۹۰ کا زاویہ بنا کر اس سوراخ کی شکل بنا کر سمجھایا کہ اس قدر وہ سوراخ ہو چکا ہے۔بعض شارحین نے اس سے مراد شمال مشرقی علاقوں کی غیر مہذب قو میں لی ہیں جو پہاڑی دروں کے راستے مہذب قوموں پر حملہ آور ہوتی تھیں جن کی روک تھام کے لیے ذو القرنین نے پچاس میل لمبی ۲۹ فٹ اونچی دیوار بنا کر ان راستوں کو بند کر دیا تھا۔ان شارحین کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ان فتنوں کے ظہور کا فرما رہے تھے تو اس دیوار میں انہی دروں کے کھلنے کا ذکر فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اس دور اول میں بلاشبہ دجال اور یا جوج ماجوج کے ظہور کی وہ بنیاد تو قائم ہو چکی تھی اور علمی و نظریاتی طور پر مستحکم بھی ہو چکی تھی جیسا کہ قرآن کریم نے سورۃ مریم میں دجالی فتنہ کے اس خطرناک ظہور کی پیشگوئی کی تھی جیسا کہ فرمایا تَكَادُ السَّماتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَ تَخِرُ الْجِبَالُ هَنَّاه (مریم:۹۱) قریب ہے کہ (تمہاری بات سے ) آسمان پھٹ کر گر جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (زمین پر) جاپڑیں۔دجالی فتنہ کے اس سوراخ کو آپ کی ہی دور بین نگاہ اور نور فراست دیکھ رہی تھی اور آپ پر نازل ہونے والا کلام آپ کو اس کی بنیاد سے لے کر اس کے پروان چڑھنے کے تمام مراحل پر آپ کی راہمنائی فرما چکا تھا اس لیے آپ نے اس سوراخ کا بھی ذکر فرمایا جو دجالی فتنہ کا نقطہ آغاز تھا اور اس انتہائی خطرناک ظہور کا بھی ذکر فرمایا جو آخری زمانہ میں ہونے والا تھا۔اس کی تفصیل احادیث میں جابجا ملتی ہے۔محدثین نے فتن کے ابواب میں وہ تمام احادیث یکجا کر دی ہیں جن میں اس کی تفصیل پائی جاتی ہے۔