صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 243
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۳ ٩١ - كتاب التعبير يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ ہے جس پر آپ ہیں۔ آپ اس پر کار بند رہیں رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُهُ بِهِ گے یہاں تک کہ اللہ آپ کو بلند مقام پر پہنچا رَجُلٌ فَيَنْقَطِعُ ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو دے۔ پھر اس کے بعد ایک شخص اس سچائی پر عمل کرے گا اور آخر وہ بھی اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ – بِأَبِي أَنْتَ - أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ گا۔ پھر اس کے بعد ایک اور شخص اس پر عمل کرے گا اور وہ اس کے ذریعہ اعلیٰ مقام پر پہنچے گا۔ پھر النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ اس کے بعد ایک اور شخص اس کو لے گا تو وہ رسی بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّهِ يَا کٹ جائے گی۔ پھر اس کے لئے وہ جوڑ دی جائے رَسُولَ اللهِ لَتُحَدِّثَنِي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ کی اور وہ بھی اس کے ذریعہ سے اعلیٰ مقام پر پہنچ قَالَ لَا تُقْسِمْ۔ جائے گا۔ یا رسول اللہ ! میرا باپ آپ پر قربان مجھے بتائیں کیا میں نے صحیح تعبیر کی یا غلط؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ٹھیک کی اور کچھ غلط ۔ حضرت ابو بکر کہنے لگے: تو پھر اللہ کی قسم، یا طرفه: ۷۰۰۰ رسول اللہ ! آپ مجھے ضرور بتائیں جس بات میں میں نے غلطی کی۔ آپؐ نے فرمایا: قسم نہ کھاؤ۔ تشریح : مَنْ لَه ين مَنْ لَمْ يَرَ الرُّؤْيَا لِأَوَّلِ عَابِرٍ إِذَا لَمْ يُصِبْ : جس شخص نے یہ سمجھا کہ پہلے تعبیر کرنے والے سے خواب کا ذکر کرنا کہ جس نے صحیح تعبیر نہیں کی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رویا کے متعلق بہت سے لوگوں کا نقطہ نظر جدا گانہ ہوتا۔ نظر جدا گانہ ہوتا ہے۔ بعض لوگ جب کوئی رویا سنتے ہیں تو ساتھ ہی اُس رویا کی بناء پر وقت کی تعیین بھی کر دیتے ہیں اور تفصیل کی بھی تعیین کر دیتے ہیں۔ اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو رویا سنتے ہیں تو پھر بھی ان کی مایوسی دور نہیں ہوتی اور وہ کہتے ہیں رویا تعبیر طلب ہوتی ہے معلوم نہیں اس کا کیا مطلب ہو گا۔ یہ دونوں نقطہ نگاہ اپنی اپنی جگہ پر غلط ہیں۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ بہ ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۳۹)