صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 216 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 216

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۱۶ بَابِ ۳۲ : الْوُضُوءُ فِي الْمَنَامِ خواب میں وضو کرنا ۹ - كتاب التعبير ٧٠٢٥: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۷۰۲۵: یحی بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ابن شہاب سے روایت کی۔سعید بن مسیب نے أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوس مجھے بتایا کہ حضرت ابو ہریرۃ نے کہا: ہم رسول اللہ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي میں آپ نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔تو یکا یک کیا دیکھتا قَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ فَقَالُوا ہوں کہ ایک عورت ہے جو محل کے ایک طرف الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ لِعُمَرَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ہو کر وضو کر رہی ہے۔میں نے کہا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر کا۔مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں پیٹھ پھیر کر وہاں سے چلا آیا۔یہ سن أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ - أَغَارُ؟ کر حضرت عمر رو پڑے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا آپ پر بھی - فَبَكَى عُمَرُ وَقَالَ عَلَيْكَ – بِأَبِي أطرافه: ٣٢٤٢، ۳۶٨٠، ۵۲۲۷، ۷۰۲۳- میں غیرت کھاؤں گا؟ باب ۳۳ : الطَّوَافُ بِالْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ خواب میں کعبہ کا طواف کرنا ٧٠٢٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۷۰۲۶: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے زہری سے روایت کی بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ کہ مجھے سالم بن عبد اللہ بن عمر نے خبر دی کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا رسول عُمَرَ رَضِيَ