صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 215 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 215

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۱۵ ٩١ - كتاب التعبير رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ اتنے میں میں نے اپنے تئیں جنت میں دیکھا تو کیا إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ قُلْتُ لِمَنْ هَذَا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے جو محل کے ایک الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ کنارے ہو کر وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا قَالَ محل کس کا ہے ؟ اُن لوگوں نے کہا: یہ عمر بن أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَكَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خطاب کا ہے۔ مجھے اُن کی غیرت یاد آئی اور پیٹھ ثُمَّ قَالَ أَعَلَيْكَ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا پھیر کر واپس چلا آیا۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے۔ رَسُولَ اللَّهِ - أَغَارُ؟ یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب روئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، کیا میں آپ پر بھی غیرت کھاؤں گا؟ أطرافه: ٣٢٤٢، ٣٦٨٠، ٥٢٢٧، ٧٠٢٥۔ ٧٠٢٤ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۷۰۲۴: عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا کیا کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ عبید اللہ بن عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عمر نے ہم سے بیان کیا۔ عبید اللہ نے محمد بن منکدر الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ سے ، ابن منکدر نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ وَسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں کیا ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِرَجُلٍ دیکھتا ہوں ایک سونے کا محل ہے۔ میں نے پوچھا: مِنْ قُرَيْشٍ فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ يَا پر کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا: قریش کے ایک ابْنَ الْخَطَّابِ إِلَّا مَا أَعْلَمُهُ مِنْ شخص کا۔ ابن خطاب اس محل میں جانے سے مجھے غَيْرَتِكَ قَالَ وَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ ضرور اس بات نے روکا کہ میں تمہاری غیرت کو جانتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا کیا میں آپ پر بھی الله ۔ أطرافه: ٣٦٧٩، ٥٢٢٦ غیرت کھاؤں گا یا رسول الله ؟ ا حرف و حرف استفہام کے معنی بھی دیتا ہے۔ (اقرب المواردو)