صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 217
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۱۷ ۹ - كتاب التعبير رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا الله صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ کعبہ کا طواف کر رہا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ بَيْنَ رَجُلَيْن ہوں۔اتنے میں یکا یک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا گندم گوں شخص جس کے بال سیدھے ہیں دو قَالُوا ابْنُ مَرْيَمَ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا مردوں کے درمیان چلا جار ہا ہے۔اس کا سر پانی رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ سے چپک رہا ہے۔میں نے کہا: یہ کون ہے ؟ لوگوں الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ نے کہا: ابن مریم۔پھر میں مڑ کر جو دیکھنے لگا تو قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہے جو سرخ رنگ بھاری بھر کم ، سر کے بال گھنگریالے، داہنی أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهَا ابْنُ قَطَنٍ وَابْنُ آنکھ سے کانا جیسے کہ اس کی آنکھ ایک پھولا ہوا قَطَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ انگور ہوتا ہے۔میں نے کہا: یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ دجال ہے۔لوگوں میں سے جو اس سے بہت ملتا جلتا ہے ابن قطن ہے اور ابن قطن بنو مصطلق میں سے ایک شخص تھا جو خزاعہ کا ایک خُزَاعَةَ۔أطرافه : ٣٤٤٠، ٣٤٤١ ، ۰۹۰۲، ۱۹۹۹، ۷۱۲۸- قبیلہ ہے۔تشريح: الطَّوَافُ بِالْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ : خواب میں کعبہ کا طواف کرنا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: علماء نے اس جگہ ایک اشکال پیش کر کے ایسے لطیف طور پر اس کا جواب دیا ہے جو ہمارے دعوی کا ایسا مؤید ہے کہ گویا ہم میں اور ہمارے مخالفین میں فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حدیث میں جو متفق علیہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے مسیح ابن مریم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور پھر بعد اس کے فرماتے ہیں کہ ایسا ہی میں نے مسیح دجال کو بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔اس بیان سے یہ لازم آتا ہے کہ مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا مدعا و مقصد ایک ہی ہو اور وہ دونوں صراط