صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 191
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۹۱ ۹ - كتاب التعبير تشریح : رُوا النهار : دن کو خواب دیکھنا۔امام بخاری ابواب کی ترتیب سے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہیں دن، رات اور زمانی و مکانی حدود سے بالا كَفَلَقِ الصُّبح صبح صادق کی طرح روشن اور سچی ہیں اور ان کا پورا ہونا آپ کے صدق اور مقرب الہی ہونے کا بین ثبوت ہے۔زیر باب دو روایتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس رویا سے تعلق رکھتی ہیں جو آپ نے اپنی امت کے ان غازیوں کے متعلق دیکھیں جو بحری فوج میں شامل ہوں گے۔یہ آپ کی اُس وقت کی رؤیا ہے جب مسلمانوں میں بحری افواج کے جہاد کا باضابطہ آغاز بھی نہیں ہوا تھا اس لیے یہ پیش گوئی مستقبل کی بہت سی خبروں پر مشتمل وہ اُمور غیبیہ ہیں جو آپ پر منکشف کیے گئے۔اس رویا میں آپ کی ایک مخلص صحابیہ حضرت ام حرام کی شہادت کی خبر بھی دی گئی۔حضرت ام حرام بنت ملحان حضرت عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں اور نبی کریم سے ان کی قرابت داری تھی۔حضرت ام سلیم جو حضرت انس بن مالک کی والدہ تھیں یہ ان کی بہن تھیں یعنی حضرت انس کی خالہ تھیں۔رسول اللہ ان کی تعظیم فرماتے تھے ، ان کے گھر تشریف لے جاتے اور کچھ دیر کے لئے قیلولہ فرماتے تھے۔نبی کریم نے ان کے بارہ میں جیسے دعا کی وہ پیشگوئی کے رنگ میں پوری ہوئی۔حضرت ام حرام حضرت عثمان کے دور خلافت میں حضرت معاویہ کے بحری لشکر میں شامل ہو کر رومیوں کے خلاف غزوہ میں شریک ہوئیں۔سمندر عبور کر کے جب جزیرہ قبرص میں پہنچیں تو سواری پر سوار ہوتے ہوئے گر گئیں اس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ذکر ام حرام بنت ملحان) حضرت ام حرام کے واقعہ شہادت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام حرام کی خواہش جہاد اور دعا کے لئے درخواست قلب کی گہرائی سے پیدا ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جام شہادت پلا کر ان کی خواہش پوری فرما دی۔باب ۱۳ : رُؤْيَا النِّسَاءِ عورتوں کا خواب دیکھنا ۷۰۰۳: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ٧٠٠٣: سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ نے مجھے بتایا۔عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔عقیل نے شِهَابٍ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ابن شہاب سے روایت کی۔(انہوں نے کہا) کہ ثَابِتٍ أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ - امْرَأَةً مِنَ خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھے خبر دی کہ الْأَنْصَارِ بَايَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت ام علامہ نے جو ایک انصاری عورت تھیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔