صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 192
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۹۲ ٩١ - كتاب التعبير اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً قَالَتْ اُنہوں نے اُن کو بتایا کہ انصار نے قرعہ ڈال کر فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَأَنْزَلْنَاهُ مہاجرین کو بانٹ لیا۔ حضرت ام علاء کہتی تھیں۔ فِي أَبْيَاتِنَا فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ عثمان بن مظعون ہمارے حصے میں آئے اور ہم فِيهِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسَلَ وَكُفِّنَ فِي نے ان کو اپنے گھروں میں اتارا۔ پھر وہ اس أَلْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں وہ فوت ہو گئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللهِ تھے۔ جب وہ فوت ہوئے تو انہیں نہلایا گیا اور عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ اُنہی کے کپڑوں میں انہیں کفنایا گیا۔ رسول اللہ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى اللہ علیہ وسلم آئے۔ کہتی تھیں اور میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ کہا: ابو سائب اللہ کی رحمت ہو تم پر ۔ میری اللهَ أَكْرَمَهُ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا شہادت تمہارے متعلق یہی ہے کہ اللہ نے تمہیں رَسُولَ اللَّهِ فَمَتَى يُكْرِمُهُ اللهُ؟ فَقَالَ ضرور ہی نوازا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا نے فرمایا: تمہیں کیا پتہ کہ اللہ نے اس کو نوازا هُوَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ وَاللهِ إِنِّي ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا باپ آپؐ پر لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَ وَاللهِ مَا أَدْرِي - قربان اور پھر اللہ کس کو نوازے گا؟ رسول اللہ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ - مَاذَا يُفْعَلُ بِي؟ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان جو ہیں تو اللہ کی فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا قسم اُن کو تو اب موت آن پہنچی، اللہ کی قسم میں اُن کے لئے بہتری کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی أَبَدًا ۔ قسم میں بھی نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ حضرت اُم العلاء کہنے لگیں۔ اللہ کی قسم اب اس کے بعد أطرافه: ۱۲٤٣ ، ۲۶۸۷ ، ۳۹۲۹، ۷۰۰۴، ۷۰۱۸- میں کسی کو بھی پاک نہیں ٹھہراؤں گی۔