صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 190
صحیح البخاری جلد ۱۶ 19+ ۹۱ - كتاب التعبير يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي كها يا رسول اللہ ! آپ کو کیا بات ہنسا رہی ہے ؟ آپ عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ نے فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں يَرْكَبُونَ ثَبَحَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى اس سمندر کے درمیان سوار ہو رہے ہیں۔ایسے الْأَسِرَّةِ - أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر سوار ہوتے ہیں۔اسحاق الْأَسِرَّةِ - شَكٍّ إِسْحَاقَ - قَالَتْ نے شک کیا کہ آپ نے مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ فرمايا يا مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فرمایا۔يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللهِ حضرت ام حرام کہتی تھیں: میں نے عرض کی۔یا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ رسول الله ! اللہ سے دعا فرما دیں کہ مجھے بھی انہی اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ مَا میں سے کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أُنَاسٌ نے اُن کے لئے دعا کی۔پھر آپ سر رکھ کر مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةٌ فِي سو گئے۔پھر جاگ پڑے اور آپ ہنس رہے تھے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو کیا بات سَبِيلِ اللَّهِ - كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى بنا رہی ہے؟ آپ نے فرمایا: میری اُمت میں قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ الله سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنَ کی راہ میں غازی ہیں۔پھر آپ نے وہی بات الْأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ فرمائی جو پہلے فرمائی تھی۔حضرت ام حرام کہتی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَصُرِعَتْ عَنْ تھیں میں نے کہا: یارسول اللہ ! دعا فرما دیں کہ اللہ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ مجھے بھی انہی میں سے کرے۔آپ نے فرمایا: تم (ان کے) اولین میں سے ہو۔چنانچہ (حضرت ام حرام حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے زمانہ میں سمندر میں (کشتی پر جہاد کے لیے) سوار ہوئیں اور پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو اپنی (سواری کے) جانور سے گر کر فوت ہو گئیں۔فَهَلَكَتْ۔أطرافه : ۲۷۸۹، ۲۸۰۰، ،۲۸۷۸، ٢٨٩۵، ٢٩٢٤، ٦٢٨٣-