صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 189
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۸۹ ۹۱ - كتاب التعبير وو نُصِرْتُ بِالرعب: رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: رعب کا تعلق مال و دولت اور کثرت تعداد سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔اس فضل کا جاذب اور اس کا باعث عقیدہ توحید ، تقوی اللہ اور اخلاق فاضلہ ہیں جن سے توکل علی اللہ ، صدق و صفاء راست گفتاری اور راست روی کو درجہ اول حاصل ہے۔“ (صحيح البخاری، کتاب الجهاد و السير ، باب قول النبي ﷺ نُصِرْتُ بِالرُّعب۔۔۔جلد ۵ صفحه ۳۳۰) بَاب ۱۲: رُؤْيَا النَّهَارِ دن کو خواب دیکھنا وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ رُؤْيَا اور (عبد اللہ بن عون نے ابن سیرین سے نقل النَّهَارِ مِثْلُ رُؤْيَا اللَّيْلِ۔کیا کہ دن کا خواب بھی رات کے خواب کی طرح ہوتا ہے ۷۰۰۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ٧٠٠١: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسحاق بن عبد اللہ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ اُنہوں نے حضرت مَالِكِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى انس بن مالک سے سنا۔وہ بیان کرتے ہیں، رسول اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمّ حَرَامِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے پاس بِنْتِ مِلْحَانَ - وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ جایا کرتے تھے اور وہ حضرت عبادہ بن صامت بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا کے نکاح میں تھیں۔ایک دن آپ ان کے ہاں فَأَطْعَمَتْهُ وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ گئے اور اُنہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سر کے بال دیکھنے لگیں۔اتنے میں رسول اللہ مایا تم سو گئے۔پھر جاگے تو آپ ہنس رہے تھے۔اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ۔أطرافه ،۲۷۸۸ ، ۲۷۹۹، ٢٨۷۷، ٢٨٩٤، ٦٢٨٢ - ۷۰۰۲: قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ :۷۰۰۲ حضرت ام حرام بیان کرتی ہیں میں نے