صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 188 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 188

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۸۸ ۹۱ - كتاب التعبير اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَقَالَ شُعَيْبٌ ہوئے کہا۔ زہری نے عبید اللہ سے یوں نقل کیا کہ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ كَانَ حضرت ابن عباس یا حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی سے روایت کی۔ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَكَانَ مَعْمَرٌ لَا يُسْنِدُهُ حَتَّى كَانَ بَعْدُ۔ طرفه: ٧٠٤٦ - رُؤْيَا اللَّيْلِ : اور شعیب اور اسحاق بن یحی نے زہری سے یوں نقل کیا کہ حضرت ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے اور معمر بن راشد ) اس حدیث کو پہلے متصلاً نہیں بیان کرتے تھے۔ پھر بعد میں کرنے لگے۔ رات کو خواب دیکھنا۔ دیکھنا۔ علامہ بدر الدین تشریح: جواب اس میں ہے کہ آیات کا خواب اور ان کا خواب برابر ہوتا ہے یا ان میں رین مینی بیان کرتے ہیں کہ یہ باب رات کے کے و ، یا ان میں کوئی فرق بھی ہے ؟ ایک قول یہ ہے کہ اس باب کو قائم کرنے سے امام بخاری نے حضرت ابو سعید خدری سے مروی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آہ ہے کہ اَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ یعنی نتحار - یعنی صبح کے وقت کی خواب زیادہ سچی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے مرفوع بیان کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ نصر بن یعقوب دنیوری کہتے ہیں کہ رات کے پہلے پہر کی خواب کی تعبیر دیر سے ظاہر ہوتی ہے جبکہ آدھی رات کے بعد کی خواب کی تعبیر رات کے مختلف حصوں کے لحاظ سے نسبتاً جلدی ظاہر ہوتی ہے اور صبح کی خواب خصوصاً طلوع فجر کے وقت کی خواب ظاہر ہونے کے لحاظ سے سب سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ قیلولہ کے وقت کی خواب کے معانی جلد ظاہر ہو جاتے ہیں۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۱۴۲) زیر باب تینوں روایات میں بیان کردہ خوابوں کا تعلق رات سے ہے۔ دو خوابیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ہیں اور ایک خواب آپ کے ایک صحابی کی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب جس میں آپ کو زمین کے خزانے دیئے جانے اور خدا داد رعب عطاء۔ اعطاء کیسے جانے کا ذکر ہے، یہ ہے ، یہ خواب جس شان سے پوری ہوئی ، تار تاریخ کے اوراق اس پر شاہد ناطق ہیں۔ آپؐ کی دوسری خواب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ منذر ہے جبکہ دوسرا مبشر ۔ آپ کی خواب کا منذر حصہ دجالی فتنہ کی صورت میں ظاہر ہوا، اور اس خواب کا مبشر حصہ وہ ہے جو اس فتنہ کے استیصال کے لیے مسیح الزمان کا آنا تھا وہ آپ کو ایک گندم گوں خوبصورت وجیہہ انسان کی صورت میں دکھایا گیا یہ آپ کی بعثت ثانیہ سے تعلق رکھنے والی وہ پیشگوئی ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر تیرہ صدیوں کے بعد طلوع ہونے والے بدر منیر کی صورت میں بڑی شان سے پوری ہوئی اور اس کی ضوفشانی خلافت کی صورت میں قیامت تک ممتد ہے۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی سب فیض ہے جو زمانی اور مکانی حدود سے بالا سدا بہار شجرہ طیبہ ہے جو ہر دور میں اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔