صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 182 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 182

صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ۱۸۲ ٩١ - كتاب التعبير فرمایا: اگر میں حضرت یوسف کی طرح قید خانہ میں ہوتا اور مجھے بادشاہ کی طرف سے بلایا جاتا تو میں فوراً چلا جاتا۔ حضرت یوسف کی طرح اپنے خلاف الزام دینے والی عورتوں سے پوچھنے کا مطالبہ نہ کرتا۔ (یوسف: ۵۱، ۵۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ آپ کی نظر اللہ تعالیٰ پر تھی۔ لوگوں کی چہ میگوئیاں آپ کی چشم حقیقت بین میں بے حقیقت تھیں۔ آپ ماسوی اللہ کو محض ایک مردہ یقین کرتے تھے۔ اس لئے غیر اللہ کے سامنے اپنی صفائی کا سوال ہی آپ کے دل میں پیدا نہ ہوتا اور بادشاہ کے بلانے پر آپ فوراً چلے جاتے۔ کتنا عظیم الشان فرق ہے، آپ کے عرفان میں اور حضرت یوسف کے عرفان میں۔“ (صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبياء ، بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَنَبْتَهُمْ عَنْ ضَيْفِ جلد ۶ صفحه ۲۸۴) بَاب ۱۰ : مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ٦٩٩٣ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ ۱۹۹۳ : عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ اللهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي ( بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ سے ، یونس نے زہری سے روایت کی کہ ابو سلمہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ نے کہا میں نے مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي في صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: الْيَقَظَةِ وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي۔ قَالَ جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو عنقریب بیداری أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ إِذَا رَآهُ میں بھی مجھے دیکھ لے گا اور شیطان میری صورت پر تمثل نہیں ہوتا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: فِي صُورَتِهِ۔ ابن سیرین کہتے تھے۔ اس سے یہ مراد ہے اگر وہ خواب میں آپ کو آپ کی شکل میں دیکھے۔ أطرافه ۱۱۰، ٣٥۳۹، ٦١٨٨، 6197۔