صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 171
صحیح البخاری جلد ۱۶ 121 ۹۱ - كتاب التعبير تشریح : التَّواطؤ عَلَى الرُّؤْيَا: اتفاق سے ایک ہی خواب دوسرے کو آنا۔لیلۃ القدر کے متعلق صحابہ کی خواہیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی اور ایک دوسرے کی تائید میں تھیں۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خوابوں کا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونا بیان فرمایا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: جو سات راتوں کا ذکر آتا ہے، وہ در حقیقت بعض صحابہ کی خوابوں پر مبنی ہے اور دوسری روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیا کا ذکر ہے، جس کی تصدیق واقعہ سے ہو گئی۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی شہادت مقدم ہے، آپ کے اس قیاس پر جو بعض صحابہ کی خواہیں سن کر آپ نے فرمایا تھا۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اختلاف کا حل اپنے طریق تقدیم و تاخیر کے مطابق پیش کیا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدہ اور آپ کے آخری ارشاد کو امام موصوف کے نزدیک ترجیح ہے۔دوسرا اختلاف آخری عشرے کی معین رات کے بارے میں ہے کہ وہ طاق رات ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رویا ہوئی تھی، وہ اکیسویں رات کو ہوئی تھی اور اس کے علاوہ امام موصوف نے یہ اشارہ بھی کیا ہے کہ اس واقعہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اکیسویں تاریخ ہی لیلتہ القدر کے لئے مقرر ہو چکی ہے اور اس کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ اگر یہی ایک مقررہ رات ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے کہ تحروا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرَ - یعنی آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی جستجو کرو۔“ (صحیح البخاری، کتاب فضل ليلة القدر ، باب تحرى ليلة القدر في الوثر ، جلد ۳ صفحه ۶۹۲) بَاب :٩ : رُؤْيَا أَهْلُ السُّجُونِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ قیدیوں اور مفسدوں اور مشرکوں کا خواب دیکھنا لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَدَخَلَ مَعَهُ السّجن کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور یوسف کے ساتھ فَتَينِ قَالَ أَحَدُهُمَا الى ادينى اَعْصِرُ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔ان خَمْرًا وَ قَالَ الْأخر ائی آرینی اَحْمِلُ فَوْقَ میں سے ایک نے کہا: میں اپنے آپ کو خواب راسي خبزا تاكل الطيرُ مِنْهُ نَنا میں دیکھتا ہوں کہ شراب بنانے کے لیے انگور