صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 159 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 159

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۵۹ ۹۱ - كتاب التعبير بَابه : الْمُبَشِّرَاتُ مبشر خوا ہیں ٦٩٩٠: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۱۹۹۰: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے زہری سے روایت کی بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ که سعید بن مسیب نے مجھ سے بیان کیا کہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابوہریرۃ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی وَسَلَّمَ يَقُولُ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الله علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: نبوت الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ سے اب بشارت دینے والی ہی باتیں رہ گئی ہیں۔لوگوں نے کہا: ان بشارت دینے والی باتوں سے کیا قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ۔مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا: اچھی خواب۔تشریح: المُبَراتُ: میٹر خو ہیں۔یہ بح امت مسلمہ میں آج تک جاری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم پر نبوت ختم ہونے کے کیا معنے ہیں۔ظاہر پرست طبقہ جن کو حقیقت جاننے سے زیادہ شعبدہ بازی کرنے نان ایشوز کو ایشوز بنانے اور عوام الناس میں اشتعال پیدا کر کے اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے اپنے سفلی مقاصد کا حصول اور شیطانی حربوں سے عوام الناس کو گمراہ کرنے اور اپنی دکان چمکانے کے سوا کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے وہ تو نبوت کے خاتمہ کا اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اب باب نبوت من کل الوجوہ مسدود ہو چکا ہے اور نبوت کا نور اور فیض اس طرح ختم ہو چکا ہے کہ اس سے کوئی روح فیض یاب نہیں ہو سکتی مگر ختم نبوت کی حقیقت جہاں کمالِ نبوت کی آئینہ دار ہے وہاں دراصل فیضانِ نبوت کے جاری ہونے اور جاری رہنے کی نوید سناتی ہے امتِ مسلمہ کے جید علماء اور سلف صالحین یہ بیان کرتے آئے ہیں کہ نبوت محمد یہ اپنے کمال کے نقطہ عروج تک پہنچی اس سے آگے کوئی کمال نہیں ان معنوں میں ختم ہے کہ آگے کوئی منزل نہیں مگر فیض نبوت ہر گز بند نہیں ہوا بلکہ ختم نبوت کی حقیقت ہی فیضانِ نبوت کا جاری ہونا ہے جو ہر مطیع کو حسب مراتب منور کرتا ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث النُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَی کہ اب الرسالة اور النُّبُوَّة منقطع ہو گئی ہے اور میرے بعد کوئی رسول اور نبی نہیں ہے، علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : اللام في العُبُوةِ لِلْعَهْدِ وَالْمُرَادُ نُبُوتُهُ وَالْمَعْنى لَمْ يَبْقَ بَعْدَ النُّبُوَّةِ الْمُخْتَصَّةُ في الاَ الْمُبَشّرات" (فتح الباری، جزء ۱۲ صفحه ۴۶۹) کہ یہاں النُّبوة“ پر ال عہد کا ہے اور اس سے آنحضرت علی ایم کی اپنی (خاص) نبوت مراد ہے جس کا معنی یہ ہے کہ میرے بعد وہ نبوت جو مجھ سے مختص تھی، وہ باقی نہیں رہی مگر مبشرات باقی ہیں۔e