صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 160
۱۶۰ صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱ - كتاب التعبير ترمذی میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے: إِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِى وَلَا نَبِقَ قَالَ فَشَقَ ذلِكَ عَلَى النَّاسَ فَقال لكن المُبهرات " کہ یقینار سالت اور نبوت منقطع ہو گئی ہے پس میرے سوا کوئی رسول یا نبی نہیں ہے۔آپ کی یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا لیکن مبشرات باقی ہیں۔ابن عربی فرماتے ہیں: وَهَذَا مَعْلى قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ القَطعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِي أَي لَا نبِي يَكُونُ عَلَى شَرع يُخَالِفُ شَرعى بَلْ إِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكْمِ شَرِيعَنِى وَلَا رَسُولَ بَعْدِ فِي أَي لَا رَسُولَ إِلَى أَحَدٍ من خَلْقِ الله يقرع يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ فَهَذَا هُوَ الَّذِي انْقَطَعَ وَسُدَّ بَابَهُ لَا مَقَامُ النُّبُوَّةِ “ الفتوحات المكية، الباب الثالث والسبعون في معرفة عدد ما يحصل من الاسرار، جزء ۳ صفحه ۶) کہ آنحضرت صلی علم کے قول کہ ”یقینار سالت اور نبوت منقطع ہو گئی اور میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں “ کے یہی معنے ہیں کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شریعت کے خلاف کسی اور شریعت پر ہو۔ہاں اس صورت میں نبی آسکتا ہے کہ وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت آئے اور میرے بعد کوئی رسول نہیں یعنی میرے بعد دنیا کے کسی انسان کی طرف کوئی ایسا رسول نہیں آسکتا جو شریعت لے کر آئے اور لوگوں کو اپنی شریعت کی طرف ہلانے والا ہو۔پس نبوت کی یہ قسم ہے جو منقطع ہوئی ہے اور اس کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے ورنہ مقام نبوت بند نہیں ہے۔حضرت سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں: "أُولِي الْأَنْبِيَاء إِسْمَ الْنُّبُوَّةِ وَ أُوتِينَا اللَّقَبَ عَلَى مُرَ عَلَيْنَا اِسْمُ النُّبُوَّةِ مَعَ أَنَّ الْحَقِّ تَعَالَى يُجيرُنَا فِي سَرَائِرِنَا يمَعَانِي كَلَامِهِ وَ كَلَامِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَيُسَمَّى صَاحِبُ هَذَا الْمَقَامِ مِنْ أَنْبِيَاءِ الْأَوْلِيَاء (اليواقيت والجواهر المبحث الخامس والثلاثون في كون محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين، جزء ۲ صفحه ۳۷۴) کہ انبیاء کو نام نبی دیا جاتا ہے اور ہمیں (نبی) لقب دیا گیا ہے۔یعنی نام نبی ہم سے روکا گیا ہے حالانکہ حق تعالیٰ ہمیں ہماری خلوتوں میں اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے معانی سے آگاہ فرماتا ہے۔اور اس مقام کے حامل انبیاء کو ولی اور دوست کا نام دیا جاتا ہے۔نیز امام عبد الوہاب شعرانی، امام ملا علی قاری، امام عبد الکریم جیلانی، امام محمد طاہر اور حضرت سید ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی یہی بات بیان کی ہے۔1 (سنن الترمذی ابواب الرؤيا، بأب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات، روایت نمبر ۲۲۷۲)