صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 158 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 158

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۵۸ ۹۱ - كتاب التعبير الحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالح جُزْ مِن سِتَّةِ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ( صحيح البخاري، كتاب التعبير، باب رُؤْيَا الصالحين، روایت نمبر ۶۹۸۳) رُؤْيَا المُسْلِمِ جُزء مِنْ سِنَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ (سنن الترمذی، ابواب الرؤيا، بَاب أَن رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا) انچاس کی روایت : اچھے خواب کے ذریعہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے) خوشخبری دی جاتی ہے اور یہ نبوت کے انچاس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُشَرُ بِهَا الْعَبْدُ جُزْءٌ مِنْ يَسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ القبوة (تفسير الطبرى، سُورَةُ يُونُسَ، الْقَوْلُ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ۔جزء ۱۲، صفحه ۲۱۸) پچاس کی روایت۔حضرت عبد اللہ بن عباس ریلی لینے سے مرفوعاً نقل کیا گیا ہے کہ خواب نبوت کے پچاس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ملی جُزْءٌ مِنْ خَمْسِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ (المعجم الأوسط، بَابُ المِيمِ ، مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّد، جزء ۶ صفحه ۶۷ ، روایت نمبر ۵۸۱۲) ستر کی روایت : اچھے خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جزءا من القبوة (صحیح مسلم ، کتاب الرؤيا، بابا)۔چھہتر کی روایت: سچے اور اچھے خواب نبوت کے چھہتر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ الصَّالِحَةُ جُزء مِن سِتَّةٍ وَسَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ (المعجم الكبير للطيرانى، مِنْ مُسْتَدِ عَبْدِ الله بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، جزء ۱۰ صفحه ۲۳ ۲ روایت نمبر ۱۰۵۴۰) علامہ ابن عبد البر نے یہ توجیہ بیان کی ہے کہ یہ اختلاف عدد لوگوں کے احوال کے مختلف ہونے کے اعتبار سے ہے۔وہ بیان کرتے ہیں: اخْتِلَافُ الْآثَارِ فِي هَذَا الْبَابِ فِي عَدَدِ أَجْزَاءِ الرُّؤْيَا لَيْسَ ذَلك عندى اختلاف متضاد متدافع وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ تَكُونَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ بَعْضِ مَنْ يَرَاهَا عَلَى حَسَبِ مَا يَكُونُ مِنْ صِدْقِ الْحَدِيثِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ وَالدِّينِ الْمَتِينِ، وَحُسْنِ الْيَقِينِ، فَعَلَى قَددِ اخْتِلَافِ الناس فِيمَا وَصَفْنَاهُ تَكُونُ الرُّؤْيَا مِنْهُمْ عَلَى الْأَجْزَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ الْعَدَدِ فَمَن خَلَصَتْ نِيَّتُهُ في عِبَادَةِ رَبِّهِ وَيَقِينُهُ وَصَدَقَ حَدِيثُهُ كَانَتْ رُؤْيَاهُ أَصْدَقَ، وَإِلَى النُّبُوَّةِ أَقْرَبَ۔( تفسير القرطبی، آیت قَالَ يبنى لا تَقْصُصْ رُؤيَاكَ عَلَى اخْوَتِكَ، تفسير سورة يوسف علیه السلام، جزء۹، صفحه ۱۲۲) نبوت کی گل مدت ۲۳ سال ہے، اُن ۲۳ سالوں کے ساتھ اگر ابتدائی چھ مہینے جو بچے خوابوں کا زمانہ ہے ، اُن کی نسبت دیکھی جائے تو چھیالیسواں جزء بنتی ہے کیونکہ ۲۳ سال کو ۲ سے ضرب دیں تو چھیالیس اجزاء بنیں گے جن میں سے ایک جزء ”چھ مہینے “ بنتے ہیں۔پس مومن کے خواب بھی گویا کہ نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے کیونکہ اس کی مناسبت ابتدائی چھ مہینوں کے ساتھ ہوتی ہے جو بچے خوابوں کا زمانہ تھا۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ ۴۵۶)