صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 154
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۵۴ ۹ - كتاب التعبير تشريح الرُّؤْيَا مِن الله : رؤیا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔زیر باب روایت میں رویا صادقہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اور پریشان خواب کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: پریشان خواب شیطان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں، سو ہضمی اس کا باعث ہو یا کوئی اور سبب۔“ (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق ، باب صفۃ ابلیس وجنوده، جلد ۶ صفحه (۱۱۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احلام حلم کی یا حلم کی جمع ہے۔مَا يَرَاهُ النَّائِمُ فِي نَوْمِهِ لَكِنَّهُ قَدْ غَلَبَ عَلَى مَا يَرَاهُ مِنَ الشَّرِ وَالْقَبِيحَ كَمَا غَلَبَتِ الرُّؤْيَا عَلَى مَا يَرَاهُ مِنَ الْخَيْرِ وَالْحَسَن وَرُبَّمَا يُسْتَعْمَلُ كُلُّ مَكَانَ الآخَرِ حُلم اس نظارہ کو کہتے ہیں جو انسان نیند کی حالت میں دیکھے لیکن یہ لفظ عام طور پر برے اور قبیح نظارہ کے لئے بولا جاتا ہے جس طرح رویا کا لفظ عام طور پر اچھے اور نیک نظارہ کو کہتے ہیں۔لیکن کبھی کبھی یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ پر بھی بول لئے جاتے ہیں۔(اقرب) مجمع البحار میں لکھا ہے الرُّؤْيَا مِنَ اللهِ وَالْخُلُمُ مِن الشَّيْطَانِ فَهُمَا مَا يَرَاهُ النَّائِمُ لَكِن غَلَبَ الرُّؤْيَا عَلَى الْخَيْرِ وَالْحَلْمُ عَلَى الشَّرِ وَالْقَبِيحِ یعنی رویا اور علم دونوں لفظوں کے اصل معنے حالت خواب میں دیکھنے کے ہیں لیکن عام محاورہ اور استعمال میں حلم بری خواب کو کہتے ہیں اور رویا اچھی کو۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے الرُّؤْيَا مِنَ اللهِ وَالحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ یعنی رؤیا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور حلم شیطان کی طرف سے۔(اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والی خواب آتی ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو اکثر ڈرانے والی خوا میں آتی رہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوں گی۔بلکہ شیطان کی طرف سے ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رحم اس کے غضب پر غالب ہے۔اور جس کو اکثر اچھی خواہیں آئیں وہ سمجھے کہ وہ خواہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکہ ان میں رحمت کا پہلو غالب ہے۔دوسرے معنے اسکے یہ ہیں کہ حلم یعنی برے خوابوں کا موجب شیطان ہے اور رویا یعنی اچھے خوابوں کا موجب اللہ تعالیٰ ہے۔یعنی عذاب کا سبب شیطانی تعلق ہو تا ہے اور فضل و برکت کا سبب رحمانی تعلق ہوتا ہے۔گویا یہ بتایا ہے کہ اگر بری خواہیں اور ڈراؤنے منظر دیکھو تو