صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 135
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۳۵ ۹۱ - كتاب التعبير سے منکشف ہو جاتا ہے یا کبھی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متشکل ہو کر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے یا کوئی تحریر کاغذ پر یا پتھر وغیرہ پر مشہور ہو جاتی ہے جس سے کچھ اسرار غیبیہ ظاہر ہوتے ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول صفحه ۲۷۴ حاشیه در حاشیہ نمبر ۱) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ( ترجمه از عربی عبارت ) اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور مرسلوں کو کبھی کبھی مجاز ، استعارہ اور تمثیل کے رنگ میں وحی کرتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں اس کی بہت سی نظائر موجود ہیں۔منجملہ ان کے ایک مثال حضرت انس کی حدیث میں آئی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایک رات ایک ایسا ہی خواب دیکھا جیسا ایک سونے والا دیکھتا ہے کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کی حویلی میں ہیں اور ابن طاب کی کھجوروں میں سے کچھ کھجوریں ہمارے پاس لائی گئی ہیں۔میں نے اس کی تعبیر کی کہ ہمارے لئے دنیا میں رفعت اور آخرت میں عافیت ہے اور ہمارا دین مقبول ہو رہا ہے۔۔۔سو دیکھو کہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی کیفیات جسمانی صورتوں میں دیکھیں اور یہ بات آپ پر مخفی نہیں کہ انبیاء کی خواہیں وحی ہوتی ہیں اور اس سے یہ ثابت ہوا کہ انبیاء کی وحی بعض اوقات مجاز اور استعارہ کی قسم سے ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی وحی کی تاویل کی ہے۔(تفسیر حضرت مسیح موعود جلد ۴ صفحه ۱۱۸ زیر آیت وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلِمَهُ الله بحوالہ حمامة البشري، روحانی خزائن جلدی صفحہ ۱۹۱،۱۹۰) بَاب ۱ : أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہل جو وحی شروع ہوئی تو وہ سچے خواب تھے ٦٩٨٢: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْر :۶۹۸۲: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث