صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 131
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۱۳۱ ٩٠ كتاب الحيل الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِمَا دَفَعَ إِلَيْهِ والے کو اُسی قیمت پر واپس کر دے جو اس نے اس وَهُوَ تِسْعَةُ آلَافِ دِرْهَم وَتِسْعُ مِائَةٍ کو دی تھی اور یہ قیمت نو ہزار نو سوننانوے درہم اور وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ دِرْهَمًا وَدِينَارٌ لِأَنَّ ایک دینار ہے کیونکہ اس بیع کا حقدار جب کوئی اور الْبَيْعَ حِينَ اسْتُحِقَّ انْتَقَضَ الصَّرْفُ نکل آیا تو اُس ایک دینار کے عوض خریداری ختم فِي الدِّينَارِ فَإِنْ وَجَدَ بِهَذِهِ الدَّارِ عَيْبًا ہو جائے گی۔پھر اگر خریدار نے اس گھر میں کوئی عیب پایا ہو اور وہ گھر کسی اور حقدار کا نہیں تو خریدار وَلَمْ تُسْتَحَقَّ فَإِنَّهُ يَرُدُّهَا عَلَيْهِ بِعِشْرِينَ اس گھر کو بیچنے والے کو بیس ہزار درہم لے کر واپس أَلْفًا۔قَالَ فَأَجَازَ هَذَا الْخِدَاعَ بَيْنَ کر دے گا۔(امام بخاری نے ) کہا: اس طرح ان الْمُسْلِمِينَ۔قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى لوگوں نے مسلمانوں کے درمیان فریب کو جائز اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعُ الْمُسْلِمِ لَا دَاءَ قرار دیا۔(امام بخاری نے) کہا: حالانکہ نبی صلی ا وتم وَلَا خِبْثَةَ وَلَا غَائِلَةَ۔أطرافه: ٢٢٥٨، ٦٩٧٧، ٦٩٧٨، ٦٩٨١- نے فرمایا ہے : مسلمان کی فروخت میں نہ بیماری ہو اور نہ ملونی اور نہ ہی کوئی دھو کہ۔٦٩٨١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۹۸۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یچی ( قطان) عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان ثوری) سے مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَنَّ أَبَا روایت کی۔اُنہوں نے کہا: ابراہیم بن میسرہ نے رَافِعٍ سَاوَمَ سَعْدَ بْنَ مَالِكِ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مجھ سے بیان کیا۔ابراہیم نے عمرو بن شرید سے مِائَةِ مِثْقَالِ۔قَالَ وَقَالَ لَوْلَا أَنِي روایت کی کہ حضرت ابو رافع نے حضرت سعد بن سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مالک سے ایک گھر کا سودا چار سو مثقال پر کیا۔(عمرو بن شرید نے کہا: اور اُنہوں نے کہا: اگر میں نے يَقُولُ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ مَا أَعْطَيْتُكَ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ہمسایہ اپنے پڑوسی کے مکان کا زیادہ حقدار ہے تو میں تمہیں نہ دیتا۔أطرافه ٢٢٥٨، ٦٩٧٧، ٦٩٧٨ ، ٦٩٨٠- ریح : اختيالُ الْعَامِلِ لِيُهْدَى لَهُ : کارکن کا یہ کر ناکہ اس کو تھے دیئے جائیں۔علامہ بدر الدین مینی لکھتے ہیں کہ هَذا بَاب فِي بَيَان كَرَاهَة حِيلَة الْعَامِل لأجل أَن يهدى لَهُ۔۔وَالْعَامِل هُوَ الَّذِي