صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 129
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۲۹ ۹۰ - كتاب الحيل باب ١٥ : احْتِيَالُ الْعَامِلِ لِيُهْدَى لَهُ کارکن کا حیلہ کرنا کہ اُس کو تحفے دیئے جائیں ٦٩٧٩ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۹۷۹ : عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام بن عروہ ) عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِي قَالَ اسْتَعْمَلَ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ابوحمید ساعدی سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: الله رسول اللہ صلی علیہم نے ایک شخص کو بنوس ایم سلیم کے صدقوں عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ کے وصول کرنے کے لئے کارکن مقرر کیا۔ اُسے اللَّتَبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا ابن التبیہ پکارا کرتے تھے۔ جب وہ آیا تو آپ نے مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ اس سے حساب لیا۔ وہ کہنے لگا: یہ تو آپ کا مالیہ ہے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا جَلَسْتَ صد الله اور یہ (میرا) ہدیہ ہے۔ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ تم اپنے باپ اور ماں کے گھر میں بیٹھ کیوں نہ رہے هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ثُمَّ خَطَبَنَا کہ تمہیں ہدیے آتے رہتے اگر تم سچے ہی ہو۔ پھر فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا آپ ہم سے مخاطب ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى کی۔ پھر فرمایا: اما بعد میں تم میں سے ایک شخص کو اُن الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللهُ فَيَأْتِي فَيَقُولُ کاموں میں سے جن کا اللہ نے مجھے نگر ان بنایا ہے ایک کام پر مقرر کرتا ہوں ! ر مقرر کرتا ہوں اور وہ آکر کہتا ہے یہ تمہارا هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي مالیہ ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا۔ وہ اپنے باپ أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّی اور ماں کے گھر بیٹھ کیوں نہ رہا کہ اس کے پاس اس تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ کے تھے آتے رہتے۔ اللہ کی قسم تم میں سے کوئی شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ شخص بغیر اپنے حق کے کچھ بھی لے گا تو وہ قیامت يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ کے دن اس کو اُٹھائے ہوئے اللہ سے ملے گا۔ اس لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لئے میں تم میں سے کسی کو نہ پہچانوں کہ وہ اللہ سے اعمدة القاری میں یہاں فَلا أَعْرِفَن کے الفاظ ہیں۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۱۲۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔