صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 128
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۱۲۸ ٩٠ كتاب الحيل ۴۔شفعہ کا حق نقصان کے تدارک کے لئے قائم کیا گیا ہے جو کسی شریک کو پہنچ سکتا ہے۔اگر کسی نقصان کا احتمال نہیں تو حق شفعہ نہ رہے گا۔۵۔شریک کی رضامندی سے غیر شفیع خرید سکتا ہے۔۶۔حق شفعہ صرف اسی جائیداد میں ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا اشتراک پایا جائے خواه بسبب قرب وجوار کے یا بسبب استفادہ کے۔مثلاً ایک کنواں ہے جس میں سے محلے کے لوگ پانی حاصل کرتے ہیں۔اگر کنویں کا مالک اسے کسی کے پاس بیچنا چاہے تو پہلا حق فائدہ اُٹھانے والوں کا ہے۔استفادہ بھی حق شفعہ قائم کرتا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی محولہ بالا روایت کے لیے کتاب البیوع باب ۹۶ روایت ۲۲۱۳ دیکھئے۔امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے بھی انہی سے یہی روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : قَضَى رَسُولُ اللہ ﷺ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرَكَةٍ لَّمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِن شَاءَ أَخَذَ وَإِن شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ۔(مسلم ، كتاب المساقاة، باب الشفعة) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشتر کہ جائیداد سے متعلق جو تقسیم نہیں ہوئی، شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔مکان ہو یا باغ، مالک کو جائز نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ اپنے شریک کو اطلاع نہ کر دے۔چاہے شریک اسے لے، چاہے نہ لے۔اگر وہ بیچ دے اور اسے اطلاع نہ دی ہو تو وہ اُس کا زیادہ حق دار ہے۔( صحیح بخاری ترجمه و شرح ، کتاب الشفعة، شرح باب الشُّفْعَةُ قة المْ يُقْسَمْ۔۔، جلد ۴ صفحه ۲۲۳، ۲۲۴) 66 آپ مزید فرماتے ہیں: تمام فقہاء میں یہ امر مسلم ہے کہ کسی مشتر کہ جائیداد پر شفعہ کا حق اس کے تقسیم ہونے سے پہلے پہلے ہے، تو ہے، تقسیم ہو جانے کے بعد شفعہ کا کوئی حق نہیں۔الفاظ فَلَا شُفَعَةَ سے عدم رجوع ( یعنی تقسیم سے روکشی نہ کرنے) کا بھی ضمناً استدلال کیا گیا ہے ورنہ جائیداد مشترکہ کو تقسیم کئے جانے کی غرض ہی باطل ہو جائے گی۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۶۰) ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، كتاب الشركة، شرح باب إذا قسم الشركاء الدوْرَ أَوْ غَيْرَهَا۔۔، جلد ۴ صفحه ۵۲۹)