صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 118 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 118

صحیح البخاری جلد ١٦ ۱۱۸ ٩٠ - كتاب الحيل جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ سے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے ہینگ کھائی ہے ؟ آپ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَدَخَلَ عَلَی نے فرمایا: نہیں تو۔ میں نے کہا: یہ بُو کیا ہے ؟ آپ صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ نے فرمایا: حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا۔ میں عَلَى حَفْصَةَ قَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ نے کہا: اس شہد کی مکھی نے محروط کا رس چوسا ہو گا۔ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ؟ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهِ۔ (حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں :) جب آپ میرے قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللهِ لَقَدْ پاس آئے میں نے بھی آپ سے اسی طرح کہا اور آپ صفیہ کے پاس آئے تو انہوں نے بھی آپ حَرَمْنَاهُ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي۔ رم سے اسی طرح کہا۔ پھر جب آپ حفصہ کے پاس آئے وہ آپ کو کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! کیا آپ کو وہی شربت نہ پلاؤں ؟ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : سودہ کہنے لگیں: سبحان اللہ ہم نے آپ کو شہد سے محروم کر دیا۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں، میں نے اُن کو کہا: چپ کرو۔ أطرافه: ٤٩١٢ ، ٥٢١٦ ، ٥٢٦٧، ٥٢٦٨، ٥٤٣١ ، ٥٥٩٩، ٥٦١٤، ٥٦٨٢، ٦٦٩١- تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنِ احْتِيَالِ الْمَرْأَةِ مَعَ الزَّوْحِ وَالضَّرَائِرِ : خاوند یا سوکنوں کے ساتھ کسی عورت کا حیلہ کرنا جو نا پسندیدہ ہے۔ ازواج مطہرات میں سے ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور صحبت سب سے زیادہ ملے۔ وہ شخص جس کی ایک سے زائد بیویاں ہوں، ان میں اس قسم کی رشک اور محبت کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ زیر باب روایت میں کسی ایسے حیلے کا ذکر نہیں جو خلاف واقعہ یا خلاف شریعت ہو۔ اس شہد کے پینے سے جو مغافیر چوسنے والی مکھیوں کا ہو ، مغافیر کی خوشبو آنا طبعی امر ہے۔ بعض خوردنی اشیاء اپنی طبعی خوشبو سے پہچانی جاتی ہیں۔ ازواج نے مغافیر کی خوشبو محسوس کی تو اس کا اظہار کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور نفیس طبیعت یہ گوارا نہ کر سکتی تھی کہ آپؐ سے کسی خوردنی چیز کی خوشبو کسی کے لئے تکلیف کا باعث بنے۔ اس لئے آپؐ نے ازواج کے جذبات کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی کا فیصلہ کیا اور اس شہد کو نہ پینے کا عزم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جو آپ کے دل کا حال جانتا تھا جو یہ تھا: عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ ۔ اُس نے اس موقع پر آپ کا دوسروں کو تکلیف سے بچانے کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا پسند نہ فرمایا کیونکہ اس طرح ایک حلال چیز حرام