صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 115
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۱۵ ٩٠- كتاب الحيل وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنِ احْتَالَ إِنْسَانٌ اور بعض لوگوں نے کہا: اگر کوئی انسان شیبہ (بیوہ) بِشَاهِدَيْ زُورٍ عَلَى تَزْوِيجِ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ عورت کے نکاح کے متعلق دو جھوٹے گواہوں بِأَمْرِهَا فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا إِيَّاهُ کے ذریعہ سے یہ حیلہ کرے کہ اس عورت کے وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَتَزَوَّجْهَا قَطُّ فَإِنَّهُ مشورہ سے نکاح ہوا ہے اور قاضی اس شخص سے يَسَعُهُ هَذَا النِّكَاحُ وَلَا بَأْسَ بِالْمُقَامِ اس عورت۔ عورت کے نکاح کو ثابت شدہ قرار دے اور لَهُ مَعَهَا ۔ وہ خاوند جانتا ہو کہ اُس نے اُس سے کبھی نکاح نہیں کیا تو یہ نکاح اس شخص کے لئے جائز ہو سکتا ہے اور اس عورت کے ساتھ اس شخص کے ٹھہرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ٦٩٧١ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۱۹۷۱ : ابو عاصم (ضحاک بن مخلد ) نے ہم سے جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ذَكْوَانَ بیان کیا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ نے ابن ابی ملیکہ سے، اُنہوں نے ذکوان سے، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِكْرُ ذکوان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ تُسْتَأْذَنُ۔ قُلْتُ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي؟ وسلم نے فرمایا: کنواری سے اجازت لی جائے۔ میں قَالَ إِذْنُهَا صُمَاتُهَا وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ نے کہا: کنواری تو شرماتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس إِنْ هَوِيَ رَجُلٌ جَارِيَةً يَتِيمَةً أَوْ بِكْرًا کی اجازت اس کی خاموشی میں ہے اور بعض ہے لوگوں فَأَبَتْ فَاحْتَالَ فَجَاءَ بِشَاهِدَيْ زُورٍ نے کہا: اگر کوئی شخص کسی یتیم یا کنواری لڑکی پر عَلَى أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا فَأَدْرَكَتْ فَرَضِيَتِ فریفتہ ہو اور وہ نہ مانے۔ پھر وہ حیلہ کرکے دو الْيَتِيمَةُ فَقَبِلَ الْقَاضِي بِشَهَادَةَ الزُّورِ جھوٹے گواہ اس بات پر لے آئے کہ اس نے اس - وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ بِبُطْلَانِ ذَلِكَ - حَلَّ سے نکاح کیا تھا اور وہ اب بالغ ہو چکی ہے اور وہ یتیم لڑکی راضی ہو گئی ہے تو قاضی جھوٹی گواہی کو قبول کرلے اور خاوند اس کے باطل ہونے کو جانتا لَهُ الْوَطْءُ۔ أطرافه: ٥١٣٧، ٦٩٤٦ - ہو تو اس کے لئے تعلق قائم کرنا جائز ہو گا۔