صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 116 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 116

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۰ - كتاب الحيل تشریح : في في النكاح: نکاح کے متعلق۔امام بخاری نے زیر باب روایات میں ان لوگوں کے نظریات کارڈ احادیث صحیحہ سے کیا ہے جو دھو کہ رہی سے ایسا عقد نکاح کرتے ہیں جس کے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہوں۔بلاشبہ قانونا تو وہ عقد صحیح کہلائے گا مگر دھوکہ دہی کی وجہ سے حرام حلال نہیں ہو جائے گا اور نہ ایک ناجائز فعل جائز قرار پائے گا۔پس ایسے مدعی کا کسی عورت سے نکاح کا جھوٹا دعوی اور جھوٹی گواہیاں اسے جائز نہیں بنا سکتیں اور نہ اُن کے ازدواجی تعلق اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔نکاح کے موقع پر پڑھی جانے والی آیات میں تقویٰ، قول سدید اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو فوز عظیم قرار دیا گیا ہے اور یہ تاکید کی گئی ہے کہ آئندہ نسل کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہیے۔ان اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدة:1) (یعنی جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے) اس سے بتایا کہ تمہارے ہر عمل سے خدا تعالی باخبر ہے۔یہ دھو کے یہ جھوٹی گواہیاں پیش کر کے تم انسانوں کے سامنے حرام کو حلال اور ناجائز کو جائز ثابت کر بھی لو تو اس خبیر خدا سے اپنے عمل کیسے چھپاؤ گے۔اسلام نکاح کے لئے لڑکی کی رضا مندی اور اس کے ولی کی رضامندی کو لازمی قرار دیتا ہے نیز خفیہ تعلق ، جھوٹ، دھوکہ اور کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری سے منعقد ہونے والے نکاح کو ناجائز قرار دیتا ہے تاکہ نسل انسانی میں شیطانی فعل کا دخل نہ ہو۔عباد الرحمن پیدا ہوں نہ کہ عباد الشیطان کیونکہ مس شیطان سے پاک مریمی صفت انسان ہی قرب الہی میں اس مقام تک پہنچتے ہیں کہ وہ شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتے ہیں۔بَاب ۱۲ : مَا يُكْرَهُ مِنِ احْتِيَالِ الْمَرْأَةِ مَعَ الزَّوْجِ وَالضَّرَائِرِ خاوند یاسوکنوں کے ساتھ کسی عورت کا حیلہ کرنا جو نا پسندیدہ ہے نازل ہوئی۔وَمَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور اس کے متعلق جو وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ۔٦٩٧٢: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۱۹۷۲ : عبيد بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ اُسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ الله نے اپنے باپ سے ، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔آپ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھا پسند کرتے تھے اور شہد بھی وَيُحِبُّ الْعَسَلَ وَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ بند کرتے تھے اور آپ کی عادت تھی کہ جب عصر أَجَازَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی ازواج کے پاس سے ہو آتے عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ اور اُن کے پاس بیٹھتے۔ایک دن آپ حفصہ کے