صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 111
صحیح البخاری جلد ۱۶ 111 ٩٠- كتاب الحيل رسوائی۔ یہی مفہوم ہے غادر کے لئے علم نصب کئے جانے کا لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاء يُنْصَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِغَدْرَتِهِ أَى بِقَدَرٍ غَدْرَتِهِ۔ یعنی غدار کی غداری کے مطابق علم بلند کیا جائے گا۔ عربوں میں دستور تھا کہ وہ اپنے عہد کا سفید جھنڈا اور غداری کا سیاہ جھنڈا نصب کرتے تھے۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۴۱) چونکہ آخرت میں جزا سزا اعمال کے مماثل ہو گی اس لئے ہر غدار اور عہد شکن کے لئے اس کی غداری کے مطابق جھنڈا بلند ہو گا۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الجزية والموادعة، شرح باب اثم الغادر للبر والفاجر، جلد ۵ صفحه ۵۴۹) باب ۱۰ ٦٩٦٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ ۱۹۶۷ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں سُفْيَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ نے سفیان ثوری) سے، سفیان نے ہشام سے، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ہشام نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت زینب بنت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اُم سلمہ سے، انہوں نے حضرت اُم سلمہ سے، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ کی ۔ آپ نے فرمایا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور تم د اور کبھی تم میں بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَاقْضِيَ لَہ میرے پاس اپنے بڑے لاتے ہو اور عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ سے کوئی کسی دوسرے کی نسبت اپنی دلیل کو اچھی مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا طرح بیان کرتا ہے اور میں اُسی کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں جو میں سنتا ہوں۔ أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ۔ اس لئے میں نے کسی کو اُس کے بھائی کے حق میں سے دینے کا فیصلہ کیا تو وہ نہ لے کیونکہ میں تو اُس کو ایک آگ کا ٹکڑاہی کاٹ کے دے رہا ہوں گا۔ أطرافه: ٢٤٥٨ ، ٢٦٨٠ ، ٧١٦٩، ١٨١، ٧١٨٥۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہاں ” و أقضى " ہے۔ (فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۴۲۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔