صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 107 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 107

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۰۷ ٩٠ - كتاب الحيل (سچے) مومن ہو اور میں تم پر نگران نہیں۔ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَ أَحْسَنُ تَأْوِيلًا (بنی اسرائیل: ۳۶) اور جب تم ماپ کرو تو پورا ماپ کرو اور سیدھی ڈنڈی سے تو لو۔ یہ بات بہت بہتر اور انجام کار سب سے اچھی ہے۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيیم کے معنی ہیں: معیاری ماپ تول کے ذریعے سے صحیح صحیح وزن کرو۔ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (الأنعام: ۱۵۳) اور سوائے ایسے طریق کے جو بہت اچھا ہو یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ ساتھ پورے کیا کرو۔ یتامیٰ کے حقوق کی نگہداشت رکھنے کے بارے میں تاکید ہے اور ہدایت ہے کہ انہیں اُن کا حق پورا پورا دیا جائے اور انصاف سے ان کے ساتھ سلوک کیا جائے۔ وَ السَّماء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ، وَ أَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزان (الرحمن : ۸ تا ۱۰) اور آسمان کی کیا ہی شان ہے۔ اس نے اسے رفعت بخشی اور نمونہ عدل بنایا تا کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو۔ اور وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو اور تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ اس آیت میں نظام آسمانی کے قیام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس میں صحیح صحیح توازن پایا جاتا ہے۔ یہ ارشاد ہے کہ تم بھی افراط و تفریط سے کام نہ لو۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب البيوع، شرح باب الكيل على البائع والمعطی، جلد ۴ صفحه ۱۰۲،۱۰۱) بَاب : مَا يُنْهَى عَنِ الْاِحْتِيَالِ لِلْوَلِيِّ فِي الْيَتِيمَةِ الْمَرْغُوبَةِ وَأَنْ لَّا يُكَمِّلَ لَهَا صَدَاقَهَا اس یتیم لڑکی کے متعلق جو پسند ہو سر پرست کے لئے حیلہ کرنا اور اُس کا مہر پورا پورا نہ دینا جو منع ہے ٦٩٦٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا ۱۹۶۵ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔