صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 103 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 103

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۰۳ ٩٠- كتاب الحيل بَابه : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْإِحْتِيَالِ فِي الْبُيُوعِ خرید و فروخت میں جو حیلہ کرنا مکروہ ہے وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ اور ضرورت سے زیادہ بچا ہوا پانی نہ روکے کہ تا الْكَلَا۔ اُس سے گھاس کی روئید گی زکی رہے۔ ٦٩٦٢ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۶۹۶۲ : اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو زناد سے ، أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله ابو زناد نے اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابوہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَا۔ أطرافه: ٢٣٥٣، ٢٣٥٤- فرمایا: ضرورت سے زیادہ بچا ہوا پانی نہ روکا جائے کہ اس سے گھاس کی روئید گی رُک جائے۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْإِحْتِيَالِ فِي الْبُيُوع : خرید و فروخت میں جو حیلہ کرنا جو حیلہ کرنا مکروہ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ رفاہ عامہ میں استعمال ہونے والی اشیاء سے لوگوں کو محروم کرنے کے لئے کوئی ایسا حیلہ کرنا کہ لوگ وہ اشیاء خریدنے پر مجبور ہو جائیں۔ زیر باب حدیث سے امام بخاری نے اس کی ایک صورت بیان کی ہے کہ کنوئیں کے زائد پانی کو اس لئے روک لینا کہ اس سے گھاس پھوس اُگے گی اور لوگوں کے جانور چریں گے ، کنوئیں کا مالک اپنی ضرورت سے زائد پانی کو روک لے کہ لوگ مجبور ہو کر اُس سے پانی خریدیں یعنی وہ جو زائد پانی بہہ جاتا ہے جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچنا تھا اُس کی لوگوں سے قیمت لی جائے یا اُس پانی سے اُگنے والی گھاس کی قیمت لی جائے۔ اسلام انسان کو نافع الناس بننے کی تعلیم دیتا ہے اور انسانی نفس میں بخل کی اس بیماری کا علاج کرنا چاہتا ہے کہ انسان ایسی چیزوں میں بھی بخل کرتا ہے اور دنیا کمانے کی کوشش کرتا ہے جن میں اُس کا کوئی خرچ اور حرج نہیں ہوتا۔ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَا : ضرورت سے زیادہ بچا ہوا پانی نہ روکا جائے کہ اس سے گھاس کی روئیدگی رُک جائے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ بیان کرتے ہیں: الگلا سے مراد نباتات ہے جس سے مویشی وغیرہ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ شارحین نے لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلا کی تشریح یہ بھی کی ہے کہ مثلاً کسی کا کنواں ایک ایسی جگہ پر ہو جس کے قریبی علاقہ میں گھاس ہو۔ جس میں سب لوگوں کو جانور چرانے کا حق ہو مگر کنوئیں والا لوگوں کے جانوروں کو پانی پینے نہ دے۔ اس غرض