صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 741
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۴۱ ۸۷ - كتاب الديات سے خطرات بڑھ جاتے ہیں تو دوسری طرف ایسا بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص جرم تو کر لیتا ہے مگر بعد میں وہ خود بھی سخت پشیمان ہوتا ہے اور اس کے رشتہ داروں کی بھی ایسی نازک حالت ہوتی ہے کہ رحم کا تقاضا ہوتا ہے کہ اُسے چھوڑ دیا جائے۔اور خود جن لوگوں کے خلاف وہ جرم ہوتا ہے وہ بھی یا اُن کے ولی بھی چاہتے ہیں کہ اُس سے در گزر کریں۔ایسی صورت میں دونوں کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے موجودہ تمدن نے کوئی علاج نہیں رکھا۔صرف اسلام ہی ایسا مذ ہب ہے جس سے تیرہ سو سال پہلے سے ساتویں صدی کے تاریک تمدن میں ایسے اعلیٰ درجہ کے تمدن کی بنیاد رکھی جس کی نظیر بیسویں صدی کا دانامد بر بھی پیش نہیں کر سکتا۔“ ( تفسیر کبیر، سورة البقرة، زیر آیت يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ جلد ۲، صفحه ۳۶۳،۳۶۲) باب ۲۱ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَمْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ؟ اگر کچھ لوگ کسی شخص کو زخمی کریں کیا ان میں سے ہر ایک کو سزادی جائے یا ان سے بدلہ لیا جائے وَقَالَ مُطَرِفٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلَيْنِ اور مطرف نے شعی سے دو آدمیوں کے متعلق شَهِدَا عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ سَرَقَ فَقَطَعَهُ نقل کیا جنہوں نے ایک شخص کے متعلق یہ شہادت عَلِيٌّ، ثُمَّ جَاءَ بِآخَرَ وَقَالَا أَخْطَأْنَا دی کہ اس نے چوری کی ہے۔حضرت علی نے فَأَبْطَلَ شَهَادَتَهُمَا وَأُخِذَ بِدِيَةِ الْأَوَّلِ اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔پھر یہ دونوں ایک اور شخص کو وَقَالَ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا تَعَمَّدْتُمَا لے آئے اور کہنے لگے: ہم نے غلطی کی (چور تو یہ ہے) تو حضرت علی نے اُن کی شہادت کو باطل قرار دیا اور اُن دونوں سے پہلے کی دیت لی گئی اور حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر میں جانوں کہ تم دونوں لَقَطَعْتُكُمَا۔نے عمداً ایسا کیا تھا تو ضرور میں تمہارے ہاتھ کٹوا ڈالوں۔٦٨٩٦ : وَقَالَ لِي ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ۶۸۹۶ اور مجھ سے ابن بشار نے کہا: يحجي ( قطان)