صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 740
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۴۰ ۸۷ - كتاب الديات بِهِ فَهُوَ كَفَارَةٌ لَه (المائدة: ۴۶) مگر جو شخص (اپنے) اس (حق) کو چھوڑ دے تو (اس کا یہ فعل ) اس کے لیے گناہ کی معافی کا ذریعہ ہو جائے گا۔اور اس پر عمل نہ کرنے والوں کو ظالم قرار دیا جیسا کہ فرمایا: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا انْزَلَ اللهُ فأوليكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (المائدة: ۴۶) اور جو (لوگ) اس (کلام) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی (حقیقی) ظالم ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد فرماتا ہے فَمَنْ عُفِرَ لَهُ مِنْ آخِيهِ شَيْءٍ فَاتِبَاعَ بِالْمَعْرُوفِ وَادَاء إلَيْهِ بِاِحْسَانِ یعنی اگر کسی مقتول کے وارث کسی مصلحت کے ماتحت قاتل کو اس کے جرم کا کچھ حصہ معاف کر دیں تو ان کو اختیار ہے۔اسلام نے مقتول کے وارثوں کو عفو کا جو اختیار دیا ہے اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس میں بعض دفعہ نقصانات کا بھی احتمال ہو سکتا ہے۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کے وارث ہی قتل کروادیں اور پھر قاتل کو معاف کر دیں۔یہ شبہ ایک معقول شبہ ہے۔مگر اسلام نے اس قسم کے خدشات کا بھی ازالہ کر دیا ہے اور گو ایک طرف اس نے دو مخالف خاندانوں میں صلح کرانے کے لئے عفو کی اجازت دی ہے مگر دوسری طرف ایسی ناجائز کارروائیوں کی بھی روک تھام کر دی ہے۔چنانچہ عفو کے ساتھ اس نے اصلاح کی شرط لگا دی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ عفو اسی وقت جائز ہوتا ہے جب اس کے نتیجہ میں اصلاح کی اُمید ہو۔اگر عفو باعث فساد ہے تو ایسا عفو ہرگز جائز نہیں اور حکومت باوجود وارثوں کے عفو کر دینے کے اپنے طور پر سزا دے سکتی ہے۔غرض اسلام نے مظلوم کو یا بصورت مقتول اس کے ورثاء کو مجرم کا جرم معاف کر دینے کی تو اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی حکومت کو بھی اختیار دیا ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کرے کہ مظلوم کم فہم ہے یا ظالم کو معاف کر دینے سے اس کی دلیری اور شوخی اور بھی بڑھ جائے گی یا مقتول کے ولی اپنے نفع نقصان کو یا پبلک کے نفع نقصان کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا خود شریک جرم ہیں تو اس صورت میں باوجود ان کے معاف کر دینے کے خود مجرم کو سزا دے اور اس سے بہتر اور کونسی تجویز دنیا میں امن اور صلح کے قیام کی ہو سکتی ہے۔اگر ایک طرف مجرموں کو معاف کر دینے