صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 739
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۳۹ ۸۷ - كتاب الديات بَاب ۲۰ : دِيَةُ الْأَصَابِعِ انگلیوں کی دیت ٦٨٩٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۶۸۹۵: آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قتادہ نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے حضرت ابن عباس هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ يَعْنِي الْخِنْصَرَ ہے، حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: یہ اور یہ برابر ہیں وَالْإِبْهَامَ۔ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ( محمد ) ابن ابی ابْنُ أَبِي عَدِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عدی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔ نَحْوَهُ حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا۔ تشریح : السن بالسن: دانت کے بدلے دانت۔ دِيَةُ الأَصابع : انگلیوں کی دیت۔ ان ابوار میں انسان کے جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانے والے پر دیت کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن کریم نے پہلی شریعتوں کے ان حصوں کو اپنے اندر جمع کیا ہے جو دائمی احکام سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ فرمایا: فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ ( البيئة : ۴) جن میں قائم رہنے والے احکام ہوں۔ مگر جہاں بھی کسی گذشتہ شریعت کے کسی حصے کو بیان کیا ہے اسے اس ابتدائی قدم سے اٹھا کر کمال تک پہنچایا ہے۔ پس قصاص کے متعلق احکام اگرچہ تورات کی کتاب اخبار باب ۲۴ آیت ۷ ۱ تا ۲۰ میں بیان ہوئے ہیں مگر وہ احکام صرف قصاص تک محدود ہیں قصاص ہر موقع اور ہر حالت میں ممکن نہیں ہو تا بلکہ بعض صورتوں میں قصاص محض بدلے اور انتظام تک محدود رہ جاتا ہے بعض اعضاء کے زخموں کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ اگر قصاص کے طور پر وہاں زخم لگانے کی اجازت دی جائے تو اس سے بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ مثلاً سر کی چوٹ وغیرہ۔ مجروح شخص یا اس کے خاندان والے قصاص بھی نہ لینا چاہیں اور بالکل معاف بھی نہ کرنا چاہیں تو ان کے لیے دیت بہترین راستہ ہے جس پر چل کر دونوں فریق بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں جبکہ دیت اور عفو تقاضہ بشری ہوتا ہے یہ حصہ تو رات میں بیان نہیں ہوا۔ مگر قرآن کریم میں فرمایا فمن تصدق