صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 732
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۳۲ ۸۷ - كتاب الديات بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ سعید (بن ابی عروبہ ) نے أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ہم سے بیان کیا۔ سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کیا جس کو اس نے اس کے لَهَا۔ زیوروں کے لالچ پر مار ڈالا تھا۔ أطرافه: ٢٤١٣، ٢٧٤٦ ، ٥٢٩٥، ٦٨٧٦ ، ٦٨٧٧، ٦٨٧٩، ٦٨٨٤۔ تشريح ۔ قَتْلُ الرَّجُلِ بِالْمَرأَة : عورت مقتولہ کے بدلہ میں مرد قاتل کومار ڈالنا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چونکہ اسلام نے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِی القتلی میں یہ عام حکم دے دیا تھا کہ ہر ایک شخص جو قتل کیا جائے اس کا قاتل لازما قتل ہو خواہ عورت مرد کو مارے یا مرد عورت کو مارے۔ خواہ آزاد غلام کو مارے یا غلام آزاد کہ مارے۔ خواہ ایک شخص کو جماعت مارے اور خواہ کافر معاہد کو مسلمان مارے اس لئے طبعی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آئندہ قصاص کیا پہلے طریق پر بھی جو جاہلیت میں رائج تھا لیا جائے گا یا نہیں۔ سو اس کا جواب دیا کہ نہیں اور ہرگز نہیں۔ وہ امتیازات اب مٹائے جاتے ہیں۔ اور اس کے لئے صرف تین مثالیں دے دیں۔ باقی مثالیں اس نے چھوڑ دی ہیں۔ کیونکہ عربی زبان میں قاعدہ ہے کہ اگر کسی جگہ تین مثالیں بیان ہوں۔ تو اس جگہ هَلُمَّ جَدًّا ساتھ مل جاتا ہے اور سب مثالیں انہی تین مثالوں میں شامل سمجھی جاتی ہیں۔ اس جگہ بھی تین مثالوں سے مراد ہر قسم کی مثال ہے اور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ خواہ قاتل محر اور مقتول عبد ہو یا قاتل مرد اور مقتول عورت ہو یا قاتل عورت اور مقتول مرد ہو ، جو بھی قتل کرے اسے قتل کی سزا دو چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی اس کی تصدیق کرتا ہے آپ نے ایک عورت کے بدلہ میں مرد کو قتل کیا (مسلم جلد ۲ کتاب القصاص و نیل الاوطار جلد ۶ صفحه ۲۸۹) اسی طرح غلام کے بدلہ میں آزاد کے مارے جانے کا حکم دیا۔ جیسے