صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 728
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۸ بَاب ١٠: الْعَفْوُ فِي الْخَطَا بَعْدَ الْمَوْتِ (قتل) خطائیں (مقتول کے ) مر جانے کے بعد معاف کرنا ۸۷ - كتاب الديات ٦٨٨٣: حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ :۶۸۸۳ فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ که علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ ( بن عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن يَوْمَ أُحُدٍ۔{ } وَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى جنگ اُحد کے دن مشرک شکست کھا گئے۔اور محمد بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ عَنْ بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو مروان یحی هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ بن ابي ذکر یا یعنی واسطی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے ، ہشام نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَرَخَ إِبْلِيسُ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ فرماتی تھیں: يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ يَا عِبَادَ اللَّهِ جنگ اُحد کے دن ابلیس نے لوگوں میں دہائی دی أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ عَلَى اللہ کے بندو اپنے پچھلوں سے بچو۔سنتے ہی اگلے أُخْرَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا الْيَمَانَ فَقَالَ اپنے پچھلوں پر پلٹ پڑے اور انہوں نے حضرت حُذَيْفَةُ أَبِي أَبِي فَقَتَلُوهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ یمان کو مار ڈالا۔حضرت حذیفہ چلائے میرا باپ غَفَرَ اللهُ لَكُمْ قَالَ وَقَدْ كَانَ انْهَزَمَ ہے میرا باپ ہے مگر انہوں نے اُن کو مار ڈالا۔مِنْهُمْ قَوْمٌ حَتَّى لَحِقُوا بِالطَّائِفِ۔حضرت حذیفہ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔اُنہوں نے کہا: اور اُن کا فروں میں سے کچھ لوگ تو شکست کھا کر بھاگ گئے تھے یہاں تک کہ وہ طائف میں جا پہنچے تھے۔أطرافه : ۳۲۹۰، ٣٨٢٤ ٤٠٦٥، ٦٦٦٨ ، ٦٨٩٠ - شريح۔الْعَفُو فِي الْخَطَا بَعْدَ الْمَوْتِ: (قتل) خطا میں (مقتول کے ) مرجانے کے بعد معاف کرنا۔قتل خطا میں قاتل پر قصاص نہیں بلکہ سزا کے طور پر ایک غلام آزاد کرنا اور مقتول کے ورثاء کو لفظ "ح" فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۲۶۳)